چینی اڈے پر ایرانی بحری جہاز بہشاد کی تصاویر سے قیاس آرائیاں پھیلنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے قریب تعینات ایرانی بحری جہاز بہشاد کے مشن سے متعلق الزامات کے بعد نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔

سمندرمیں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ٹینکر ٹریکرز ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ ایرانی جاسوس جہاز جس پر پہلے الزام لگایا گیا تھا کہ وہ بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے یمن میں حوثی گروپ کو کوآرڈینیشن فراہم کرتا تھا اب ایک چینی بحری اڈے کے قریب کھڑا ہے۔

ویب سائٹ کے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پرآج اتوار کو ایک ٹویٹ میں وضاحت کی جبوتی میں چینی اڈے کے سامنے بہشاد تقریباً 9 دنوں سے کھڑا ہے۔

خلیج عدن میں سیکورٹی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ گذشتہ پانچ دنوں کے دوران خلیج عدن میں سکیورٹی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

اس نے چینی اثرو رسوخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ویب سائٹ نے لکھا کہ "کیا ہم چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ بیجنگ نے بحیرہ احمر میں کارگو جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے تہران کے ساتھ ثالثی کی۔

ٹویٹ میں کہا گیا کہ بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے جو حوثیوں کو اب بھی AIS سگنل بھیج رہے ہیں، تاکہ انہیں مطلع کیا جا سکے کہ وہ اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف نہیں جا رہے ہیں یا کسی اسرائیلی پارٹی کی ملکیت نہیں ہیں۔

امریکی حکام نے پچھلے مہینے (جنوری 2024) کے آخر میں اشارہ کیا تھا کہ واشنگٹن نے بیجنگ جس کے تہران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں سے کہا ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کو روکنے کے لیے زور تہران پر دباؤ ڈالے کیونکہ حوثیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر اہم شپنگ لین میں تجارتی جہازوں کی آمد ورفت متاثر ہوئی ہے۔

تاہم ’فنانشل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کو اس وقت چین کی معاونت کا کوئی خاص نشان نظر نہیں آیا۔

لیکن گذشتہ چند دنوں کے دوران خلیج عدن میں بڑے حملوں کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ حوثیوں نے پہلے زور دے کر کہا تھا کہ وہ اسرائیل کی طرف جانے والے بحری جہازوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں