فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے امدادی اشیاء لانے والی 'اونرواشپ منٹ' کو ایک ماہ سے بندرگاہ پر روک رکھا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے ادارے ' اونروا' کے سربراہ فلپ لازا رینی نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو غزہ میں خوراک و دیگر امدادی اشیاء کی فراہمی کے لیے آنے والی شپ منٹ کو اسرائیلی انتظامیہ نے رکاوٹیں پیدا کر کے بندرگاہ پر ایک ماہ سے روک رکھا ہے۔

واضح رہے غزہ کو اسرائیلی فوج نے مسلسل زیر محاصرہ رکھا ہوا ہے۔ اس لیے کھانے پینے اشیاء اور ادویات ، پانی اور ایندھن تک سب کچھ کی سپلائی کو جب چاہے روک لینے کے علاوہ ترسیل کی اجازت بھی انتہائی قلیل مقدار میں دیتا ہے۔

اس سلسلے میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ادارے ' اونروا ' کو بھی اپنے دباؤ میں لانے کے لیے اس پر الزام لگا کر کہ سات اکتوبر کے حماس حملے میں ' اونروا ' کے 12 افراد بھی شامل ہو گئے تھے۔ تب سے امریکہ، برطانیہ۔ نیوزی لینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ملکوں نے ' اونروا' کے لیے فنڈنگ روک دی ہے۔

جبکہ اسرائیل نے اس کی امدادی کارروائیوں میں نہ صرف رکاوٹیں مزید بڑھا دی ہیں بلکہ یہاں تک کہہ رہا ہے کہ ' اونروا ' کی تباہی تک غزہ میں جنگ جیتنا مشکل ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ادارے کے غزہ میں 13000 کارکن کام کرتے ہیں۔ جن میں 12 پر اسرائیلی الزام لگا ہے۔ یو این نے اس الزام کی تحقییقات شروع کر دی ہیں۔

'اونروا' کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم بے گھر فلسطینیوں کی امداد کا کام انتہائی مخالفانہ اور مشکل ماحول میں کر رہے ہیں۔ اب ہمارے ' کنٹریکٹرز ' نے ہمیں اطلاع دی ہے کہ ' اسرائیلی بندرگاہ ' اشدود ' پر پیداہ کردہ مشکلات ایسی ہیں کہ ' اونروا' کے ساتھ مزید کام جاری رکھنا مشکل تر بنا دیا گیا ہے۔ '

امدادی اشیاء کی ترسیل اور خوراک کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے، نتیجتاً غزہ میں بے گھر ہو فلسطینی بھوک سے تنگ آگئے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے اسرائیلی وزیر خزانہ سموتریچ نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے محصولات سے ہونے والی رقوم بھی رو ک دی ہیِں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں