انہوں نے اسے 2 بارقتل کیا:12 روزسےاسرائیلی فائرنگ میں پھنسی فلسطینی بچی ہند رجب والدہ

6 سالہ ہند اپنے خاندان کے ہمراہ اسرائیلی فائرنگ میں پھنسے ہوئے کئی دن بعد ہلاک ہو گئی تھی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"آؤ مجھے لے جاؤ۔ پلیز، کیا آپ آئیں گے؟

یہ اس کے آخری الفاظ تھے جب اپنے خاندان کے ساتھ کار میں جاتے ہوئے اسرائیلی ٹینکوں نے اسے گھیر لیا، اور اس کے ارد گرد 5 لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔

اس کی اپیل نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

کئی دنوں تک، ہند رجب کی والدہ اس امید پر قائم تھیں کہ اس کی چھ سالہ بیٹی اب بھی زندہ ہے — لیکن ہفتے کے روز یہ امید بالآخر دم توڑ گئی۔

اس کے لاپتہ ہونے کے بارہ دن بعد، ہند کو مردہ حالت میں پایا گیا - اس کی لاش اب بھی کار میں پڑی ہے جہاں سے وہ اسرائیلی فائرنگ کی زد میں پھنسی ہوئی مدد کے لیے بے چین التجا کرتی رہی۔

"یہ سب سے مشکل احساس ہے،" ہند کی ماں، وسام حمدہ نے ہفتے کے روز این بی سی نیوز کو بتایا کہ اس کی بچی کی لاش مدد کے لیے اپیل کے تقریباً 12 دن بعد ملی۔

فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق ٹوٹی ہوئی اور گولیوں سے بھری گاڑی سے محض چند میٹر کے فاصلے پر، ہلال احمر اور ہند کے اپنے خاندان کے افراد کو ایک جلی ہوئی ایمبولینس بھی ملی جس میں ریسپانس ٹیم کے دو افراد کی لاشیں تھیں جنہوں نے اسے بچانے کی کوشش کی۔

حمدہ نے کہا، "انہوں نے اسے دو بار قتل کیا۔ "پہلے خوف سے اور پھر گولیوں سے۔

ہند اپنی خالہ، چچا اور چار کزنز کے ساتھ ایک کار میں غزہ شہر کے تل الحوا کے محلے میں شدید لڑائی سے فرار ہو رہی تھی، جب اس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔

ہند، جس کی عمر 6 سال تھی، اپنی 15 سالہ کزن لیان کے ساتھ بچ گئی، دونوں بچیاں مدد لیے پکارتی رہیں۔

ہلال احمر ریسپانس کے پہنچنے تک لیان بھی جان بحق ہوچکی تھی۔

"آؤ مجھے لے جاؤ۔ پلیز، کیا آپ آئیں گے؟"ہند کی کال کی ریکارڈنگ میں التجا کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جسے ریڈ کریسنٹ نے جاری کیا تھا۔

جبکہ ریسپانس کے لیے پہنچنے والے عملے کے دو افراد کو بھی اسرائیلی فوج نے شہید کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں