فلسطین اسرائیل تنازع

رفح پر اسرائیلی حملے میں بچوں اور خواتین سمیت 100 شہری جاں بحق

اسرائیل کا آپریشن کے دوران دو یرغمالیوں کو اچھی صحت کے ساتھ رہا کروانے کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

داخلی طور پر بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے انبوہ سے کچھا کھچ بھرے ہوئے رفح شہر پر اسرائیلی حملے کے اعلانات کے تناظر میں اسرائیل نے شہر پر بری، بحری اور فضائی جہتوں سے حملے کیے ہیں جن میں دسیوں فلسطینی ہلاک وزخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت نے پیر کے روز بتایا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں کم سے کم ایک سو افراد جاں بحق جبکہ 230 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دسیوں ملبے تلے

ادھر مرکز اطلاعات فلسطین نے ٹیلی گرام نامی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل نے رفح کے مختلف علاقوں میں دو مساجد سمیت متعدد گھروں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے دسیوں زخمی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

دو قیدیوں کی رہائی

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رفح آپریشن میں حماس کے پاس یرغمال دو اسرائیلی قیدیوں کو بھی رہا کروا لیا گیا ہے۔ ان کی صحت اچھی بتائی جاتی ہے، جنہیں اب ہسپتال معائنے کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

رہا کروائے یرغمالیوں کی شناخت ستر سالہ لویس ہر اور ساٹھ سالہ فرنانڈو مرمان کے طور پر کرائی گئی ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ’اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ پر ’متعدد فضائی حملے‘ کیے جو اب ’ختم ہوگئے‘ ہیں۔
رائٹرز نے ایک ایپ کا استعمال کرتے ہوئے رفح کے جن شہریوں سے رابطہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ’شدید بمباری سے علاقے میں بہت خوف و ہراس پھیل گیا کیونکہ حملے شروع ہونے کے وقت بہت سے لوگ سو رہے تھے۔‘

رفح پر حملے سے قبل امدادی اداروں نے خبردار کیا تھا کہ ’یہ تباہ کن ہوگا۔‘ یہ اسرائیلی جارحیت سے تباہ ہونے والے علاقے میں آخری نسبتاً محفوظ جگہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے اتوار کو بن یامین نتن یاہو سے کہا تھا کہ ’اسرائیل کو رفح میں پناہ لینے والے تقریباً 10 لاکھ افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قابل اعتماد منصوبے کے بغیر وہاں فوجی آپریشن شروع نہیں کرنا چاہیے۔‘

وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان تقریبا 45 منٹ تک بات چیت ہوئی ہوئی تھی۔

اقصیٰ ٹیلی ویژن نے اتوار کو حماس کے ایک سینئیر رہنما کے حوالے سے کہا تھا کہ رفح میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی زمینی جارحیت سے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات ’ختم‘ ہو جائیں گے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکہ، اقوام متحدہ اور کئی حکومتوں نے نتن یاہو کے اس شہر پر حملہ کرنے کے منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا ، جہاں تقریباً 14 لاکھ افراد جمع ہیں۔

سعودی عرب نے غزہ کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے رفح میں آپریشن کے منصوبے کی شدید مذمت کی تھی۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سختی سے خبردار کیا کہ ’اسرائیلی فوجی جارحیت کا تسلسل اور توسیع فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی مسترد کوششوں کا حصہ ہے۔‘

او آئی سی نے زور دیا تھا کہ ’اس طرح کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں