فلسطین اسرائیل تنازع

رفح پر حملے کے بارے میں پبلک میں گفتگو کرنے سے السنوار کو فائدہ پہنچے گا:اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی برادری کی تنبیہ کےباوجود اسرائیلی حکومت غزہ کےجنوبی شہر رفح پر فوج کشی کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا ہے کہ اس نے فلسطینی شہر رفح میں فوج کے داخلےکے فوجی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ "میں پہلے ہی رفح میں تین بار ایکشن پلان کی منظوری دے چکا ہوں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جب ضرورت ہو گی سیاسی قیادت کو حتمی پلان پیش کریں گے"۔

"میڈیا گفتگو"

اس کے علاوہ انہوں نے غزہ میں حماس کے رہ نما السنوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس معاملے پر میڈیا کی گفتگو یحییٰ السنوار کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش ہے"۔ اسرائیل کاخیال ہے کہ السنوار اور حماس کی دوسری قیادت غزہ کے جنوبی شہر رفح میں سرنگوں میں روپوش ہے۔

رفح سے، غزہ کے جنوب میں (ایسوسی ایٹڈ پریس)
رفح سے، غزہ کے جنوب میں (ایسوسی ایٹڈ پریس)

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی افواج "رفح میں فوجی آپریشن کے حوالے سے سیاسی قیادت بعد میں جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔"

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف نے اس بات پر زور دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ فوج مرکز اور رفح دونوں میں حماس کے بریگیڈ کو ختم کر دے گی۔

اسی دوران واشنگٹن نے اس گورنریٹ پر کسی بھی زمینی حملے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ رفح میں 13 لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ رفح میں فوج کشی سے بڑے پیمانے پر قتل عام ہو گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان سیموئل واربرگ نے ’العربیہ‘کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ “واشنگٹن کو رفح میں کسی بھی اسرائیلی فوجی کارروائی پر شدید تحفظات ہیں"۔

دوسری جانب رفح سے متصل مصر نے بھی وہاں پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے خبردار کیا ہے۔ قاہرہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج نے رفح میں حملہ کیا تو اور فلسطینیوں کو وہاں سے مصر میں دھکیلنے کی کوشش کی تو مصر اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں طے پانے والے امن معاہدے کو معطل کردے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں