فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جب تک یرغمالی زندہ اور باقی ہیں، بمباری کا جواز موجود رہے گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے اس وقت بھی غزہ میں 132 یرغمالی موجود ہیں۔ اس لیے غزہ پر بمباری کرتے رہنے کا ہمارا کافی جواز بھی موجود ہے۔

ان سے اتوار کو نشر ہونے والے انٹرویو میں پوچھا گیا تھا کہ ' اب تک غزہ میں کتنے یرغمالی زندہ حالت میں باقی ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا ' کافی تعداد میں ہیں جن کے لیے ہم ہر قسم کی کوششیں کر رہے ہیں۔

واضح رہے اتوار کے روز نیتن یاہو کے انٹرویو کے نشر ہونے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی فوج کی بمباری سے دو مزید اسرائیلی یرغمالی مارے گئے ہیں جبکہ مزید آٹھ یرغمالی زخمی ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی یہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ غزہ میں قید میں 28 اسرائیلی یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کا باعث بننے والی اسرائیلی حکمت عملی کے بارے میں یرغمالیوں کے اہل خانہ کافی حد تک عدم اطمینان کا شکار ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا ' ہم حماس کی قید سے یرغمالی چھڑانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے یرغمالیوں کو زندہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔ نیز ہلاک ہو چکے یرغمالیوں کی لاشیں ہی واپس لا سکیں۔ نیتن یاہو کا یہ انٹرویو ' اے بی سی ' ٹی وی نے اتوار کے روز نشر کیا ہے۔

غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ' غزہ میں حماس کے ایک جنگجو کے بدلے میں ایک فلسطینی بھی ہلاک ہو رہا ہے۔ ' غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اب تک 28 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی بمباری سے ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں