فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں مارا جانے والا ہردوسرا شخص حماس کا جنگجو ہے: نیتن یاھو

ہزاروں بچوں اور خواتین کے قتل کے باوجود نیتن یاھو شہری ہلاکتوں کی تعداد کم دکھانے پر مُصِر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رفح میں فوجی آپریشن پر اپنے اصرار پر زور دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو اے بی سی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ غزہ میں زندہ 132 اسرائیلی یرغمالیوں کی موجودگی خطے میں اسرائیلی جنگ کے جاری رہنے کا جواز ہے۔

"ہر حماس جنگجو کے ساتھ ایک عام شہری کی ہلاکت"

غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو کم کرنے کے دعوے میں انہوں نے کہا کہ حماس کے ہر جنگجو کے ساتھ اوسطا ایک عام شہری مارا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں تاکہ سکیورٹی کنٹرول ہمارے ہاتھ میں رہے"۔

"محفوظ راستہ"

نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی فوج غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر متوقع حملے سے قبل شہریوں کے لیے "محفوظ راستے" کی ضمانت دے گی۔

انہوں نے اے بی سی نیوز پر پروگرام "یہ ہفتہ جارج اسٹیفانوپولس کے ساتھ" میں ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ " جنگ میں فتح ہماری ہے۔ ہم اسے حاصل کریں گے۔ ہم حماس کے آخری بریگیڈ اور رفح کو کنٹرول کریں گے جو حماس کا آخری گڑھ ہے۔

قتل عام کی وارننگ

ہفتے کو حماس نے بھی رفح میں "قتل عام" کے بارے میں خبردار کیا تھا، جو کہ محصور جنوبی فلسطینی پٹی میں دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کے لیے آخری پناہ گاہ بن گیا ہے۔

مصر کی قیادت میں کئی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی اس شہر پر کسی حملے کے سنگین خطرات کے بارے میں اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مصری سرحد سے متصل رفح میں تقریباً 13 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جن میں سے دسیوں ہزار غزہ کی پٹی کے شمال،جنوب اور وسطی پٹی سے بے گھر ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں