یواے ای میں عالمی حکومتی سربراہی کانفرنس کا آغاز،ایک سال میں جنگوں پر17 کھرب ڈالر خرچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دنیا بھر کی مملکتوں اور حکومتوں کے سربراہان سمیت اعلیٰ ترین عہدے دار متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں دنیا کو درپیش چیلنجوں اور مسائل کے حل کے لائحہ عمل اور مستقبل کی ترجیحات کا تعین کریں گے۔ اس غیر معمولی سربراہی کانفرنس کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران 17 کھرب ڈالر جنگوں پر خرچ کر دیا گیا۔

جنگوں پر لگایا جانےوالا خطیر سرمایہ تعلیم ، صحت اور تعمیرات پر خرچ کرنے کی ضرورت تھی مگر اسے جنگوں کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے کیبنیٹ افئیرز کے وزیر اور 'ورلڈ گورنمنٹس سمٹ' کے چئیر مین محمد عبداللہ گرگاوی نے اپنے خطاب میں کہا ' کانفرنس مواقع پر توجہ مرکوز کرے گی کہ انسانی اور بین الاقوامی ترقی کا یہی راستہ ہے۔ '

انہوں نے نشان دہی کی دنیا میں عالمی رجحانات اور عالمی ترقی کے اشاریوں کا اظہار ہو گا۔ نیز مستقبل کے چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کے طریقوں کی طرف راہنمائی کی جائے گی۔ چئیرمین محمد عبداللہ گرگاوی نے کہا ' پچھلے ایک سال کے دوران عالمی برادری نے جنگوں اور لڑائیوں پر 17 کھرب ڈالر خرچ کر دیے۔ یہ اتنی بڑی رقم تعمیرات پر خرچ نہیں کیے گئے، یہ سارا سرمایہ تعلیم اور صحت کے کام نہیں آیا ہے۔ بلکہ جنگوں میں جھونک دیا گیا۔'

کانفرنس کے میزبان چئیرمین نے کہا ' اس افراتفری کو میڈیا مزید بڑھاوا دیتا ہے۔ وہ مستقبل کا خوف پیدا کرتا ہے اور انتہائی بری صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے۔ لیکن دوسری جانب یہ حال ہے کہ وہ مسائل جن کا اس وقت انسانیت کو سامنا ہے ان ایشوز اور چیلنجوں پر تو صرف 6 فیصد خرچ کیا گیا ہے۔'

محمد عبداللہ گرگاوی کا کہنا تھا ' یہ سرمایہ بھوک اور ننگ کے خاتمے پر خرچ کیا جانا چاہیے تھا۔ تعلیم پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔ ٍیہ وسائل پینے کے صاف پانی پر لگائے جانے چاہییں تھے۔ کینسر کی مہلک بیماری اور صحتکے دنیا بھر میں موجود مسائل کے توڑ کے لیے کام آنے چاہییں تھے۔آج انسانیت کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ان وسائل کو انسانیت کی فلاح کے کام آنا چاہیے تھے۔'

اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے مزید کہا ' مضبوط وہ نہیں جو جنگ جیت جاتا ہے ، کمزور وہ ہے جو امن کو کھو دیتا ہے ۔' آج کی دنیا میں پچاس فیص پیداوار چین اور بھارت سے ہو رہی ہے۔ یہ دو ملک ہیں جو مستقبل کی دنیا کی تشکیل کریں گے۔ جبکہ باقی ایشیا پیسفک کے ملکوں سے آئے گا۔ اس لیے دیکھنا یہ ہو گا کہ کس طرح انسانیت ان سارے فوائد کے حصول کے لیے باہم تعاون کر سکتی ہے۔ کیا یہ جنگوں سے ممکن ہے؟

شیخ محمد بن راشد، نائب صدر اور دبئی کے حکمران، دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے 2024 کے ایڈیشن میں متعدد عرب وزرائے خزانہ کا استقبال کر رہے ہیں۔ (فراہم کردہ: WGS)
شیخ محمد بن راشد، نائب صدر اور دبئی کے حکمران، دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے 2024 کے ایڈیشن میں متعدد عرب وزرائے خزانہ کا استقبال کر رہے ہیں۔ (فراہم کردہ: WGS)

انہوں نے اپنے خطاب کے دوران ' چیٹ جی پی ٹی ' ایسی' ایپلیکیشنز 'کا بھی ذکر کیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سامنے آنے والے اعدادو شمار کا بھی۔ اسی طرح گوگل کے بارڈ کی جگہ اب دس ہزار گنا زیادہ تیز پروگرام متعارف کرانے۔ کا بھی حوالہ دیا۔ نیز کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کی جدید ترین سہولتوں کے اچھے اور غلط اسرتعمال کا بھی ذکر کیا۔

واضح رہے اس تین روزہ سربراہی کانفرنس میں اس تصور کو اپنے نصب العین کے طور پر لیا گیا ہے کہ ' مستقبل کی حکومتوں کی تشکیل' کیسے ہو۔ کانفرنس میں 25 عالمی رہنما، 140 حکومتوں کے نمائندے اور 85 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ 4000 شرکاء متوقع ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم مودی، ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن، قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی اپنے ملکوں کے اعلیٰ وفود کی قیادت کریں گے۔دوسرے اہم قائدین میں مصطفیٰ مادبولی، جاسم البدایوی، سیکرٹری جنرل خلیج تعاون کونسک کے علاوہ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد عبدالغیث شریک ہوں گے۔

اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے کہا 'یہ کانفرنس امارات کی ان کوششوں کے تسلسل کا حصہ ہے جن کے تحت امارات پوری دنیا کی حکومتوں کے درمیان تعاون کا فروغ چاہتی ہے۔ کیونکہ موجودہ مسائل کا حل صرف مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں