’اونٹ‘ سے محبت نے انہیں پینٹنگ اور فن پاروں میں مجسم کرنے کی ترغیب دی‘

’اونٹوں‘ کو فن پاروں میں مجسم کرنے والےسعودی آرٹسٹ عمر الراشد سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ایک فائن آرٹ کے آرٹسٹ عمر الراشد نے اونٹوں کی نقل وحرکت کو اپنے فن پاروں میں خوبصورت انداز میں پیش کرکے اونٹ کے جمالیاتی حسن کو عصری آرٹ میں منفرد انداز میں شامل کیا ہے۔

سعودی آرٹسٹ عمر الراشد نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بصری آرٹسٹ کی حیثیت سے رواں سال کو اونٹ کا سال قرار دینے کے بعد اونٹوں کو اپنی پینٹنگ کا حصہ بنایا۔ میں نے اس کا انتخاب کرکے اپنے فنی انداز میں اونٹوں کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ میں ان میں ایک گہری خوبصورتی دیکھتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے اپنے آرٹ ورک میں ایکریلک رنگوں اور کینوس کا استعمال کیا ہے۔ ان تمام کاموں میں میں ایک آرٹسٹ کے طور پر اونٹوں کی خوبصورتی کو اس خوبصورت انداز میں مجسم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ آنکھ خوبصورتی اور رنگوں کی گہرائی سے دیکھ سکے۔ یہ ایک ایسا انداز ہو سکتا ہے جو مجھے فن میں ممتاز کرسکتا ہے۔

عمر الراشد نے نشاندہی کی کہ وہ جلد ہی ایک آرٹ نمائش منعقد کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس میں وہ اپنے فن پاروں کو جمع کرکے اونٹوں کی خوبصورتی کی عکاسی کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ میری پینٹنگز اور آٹ کاموں میں زندگی کے حالات، احساسات، فطرت اور اس خوبصورتی کی عکاسی ہوتی ہے جو آنکھ دیکھتی ہے اور میرے کام مختلف فنکارانہ مکاتب کو یکجا کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ فنکارانہ پینٹنگز مجھے اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں جب میں ان کے پاس دیر تک کھڑا رہتا ہوں اور ان کی طرف لوٹتا ہوں اور ان پر گہرائی سے غور کرتا ہوں۔ میں ان میں ایک خوبصورت کہانی، ایک یادداشت اور صورت حال دیکھ سکتا ہوں۔ میں کچھ نیا دیکھ رہا ہوں۔ میں انہیں پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔ یہ پینٹنگز اور وہ احساسات آرٹ کے اعلیٰ ترین معانی کو مجسم کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں