فلسطین اسرائیل تنازع

"غزہ میں جنگ بندی کی جائے، پہنچنے والی طبی امداد سمندر کے قطرے کے برابر ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈور ایڈانوم نے غزہ میں اپنے جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے جنگ متاثرین لاکھوں شہریوں کی ضروریات کے مقابلے میں بھجی گئی طبی امداد سمندر کے سامنے قطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے سات اکتوبر سے اب کی غزہ میں تباہی کے بعد سے اب تک غزہ میں بھجوائی گئی ادویات اور دوسری طبی امداد کے بارے میں کہا ' 447 میٹرک ٹن ہے تاہم انہوں نے کہا یہ طبی امداد غزہ کی 24 لاکھ کی بھر آبادی کے لیے نہ ہونے کے برابر ہے۔ سربراہ عالمی ادارہ صحت متحدہ عرب امارات میں جاری ' ورلڈ گورنمنٹ سمٹ ' میں گفتگوکر رہے تھے۔

انہوں نے کہا 'غزہ میں کل 15 ہسپتالوں میں سے صرف چھ ہسپتال اور وہ بھی جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ انتہائی بے سرو سامانی کے اس عالم میں غزہ کے طبی کارکن پھر بھی بہترین کام کر رہے ہیں۔ جبکہ ہسپتالوں اور طبی عملے کو حملوں کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے رفح کے علاقے میں اسرائیلی فوج کی نئی جنگی تیاری کے ساتھ حملوں کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا غزہ کی آبادی کی اکثریت رفح میں پناہ لیے ہوئے ہے۔'

عالمی ادارہ صحت نے اپنے اس مطالبہ کو پھر دہرایا کہ 'غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر اشیاء بشمول ادویات کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔ نیز یرغمالیوں کو بھی رہائی دلوائی جائے اور جنگ بندی کی جائے۔'

طبی آلات کی کمی اور وباؤں کے خطرات

'عالمی حکومتوں کی سربراہی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کرونا 19 کا حوالہ دیا اور آنے والے دنوں وباؤں کے بارے میں خدشات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا عالمی برادری کو ان سے نمٹنے کے لیے زیادہ اچھی طرح طبی آلات اور سہولیات سے لیس کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا 'ٹھیک چھ سال قبل وہ اس سطح پر کھڑے تھے اور دنیا وبا کے مقابلے کے لیے تیار نہ تھی۔ لیکن اب جب ہم ایک بار اس سے گذر چکے ہیں ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ یہ پھر کسی وقت ابھر سکتی ہے۔ یہ صرف دو سال پرانی بات ہے جب دنیا اس کے مقابلے کی تیاری کے ساتھ نہیں تھی۔'

ان کا کہنا تھا 'آج جب میں آپ کے سامنے ہوں تو ہم کرونا 19 کے بعد کے دور میں ہیں۔ ہمیں اس کرونا کی نذر لاکھوں لوگوں کی جانیں کرنا پڑی ہیں۔ اس وبا کی وجہ سے ہم نے سماجی ، سیاسی اور معاشی دھچکے برداشت کیے ہیں۔ اس لیے اگلی کسی بھی وبا کے لیے ابھی سے تیاری انتہائی اہم ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں