فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج نے وسطی رفح سے دو یرغمالیوں کو کیسے بازیاب کرایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے سوموار کے روز وسطی رفح سے دو یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا۔ دو اسرائیلی خواتین یرغمالیوں کی رہائی سکیورٹی فورسز کے ذریعہ کئے گئے ایک فوجی آپریشن میں کی گئی۔

اس آپریشن کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں اسرائیلی کمانڈو فورسز نے بتایا کہ انہوں نے وسطی رفح میں ایک عمارت پر حملہ کرنے کے لئے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا جس میں فرنینڈو مارمین اور لوئس ہار جنہیں گذشتہ سات اکتوبر کے دوران حماس کے ارکان نے یرغمال بنالیا کو اس پر رکھا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی افواج فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے شدید فائرنگ کے درمیان ایک جرات مندانہ کارروائی کے دوران دو یرغمالیوں کو بچانے میں کامیاب رہیں۔

اس آپریشن کو "گولڈن ہینڈ" کا نام دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی عسکری قیادت نے اس آپریشن کی نگرانی کی جب کہ پولیس ، داخلی سکیورٹی سروس "شین بیت " نے اس میں معاونت کی۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اپنے دفاترسے اس کی پیروی کررہے تھے۔

رفح کے رہائشی شدید گولہ باری کے دوران بیدار ہوئے۔ فرانسیسی پریس کے نمائندوں نے شہر کے متعدد مقامات پر درجنوں دھماکوں کی آوازیں سنی۔

فوج کے مطابق اسرائیلی کمانڈو فورسز نے "لوئس اور فرینو کو اپارٹمنٹ سے باہر نکالا اور فائرنگ کے دوران انہیں نکال لیا۔ فوج نے انہیں کسی محفوظ علاقے میں پہنچنے تک رفح کے علاقے میں تحفظ فراہم کیا۔ فوج نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی معائنہ کروایا جہاں سے انہیں ایک ہیلی کاپٹر کی مدد سے رامات گان میں لے جایا گیا۔

لوئس ہارخاندان کو اسرائیلی حکام کا فون آیا۔ انہوں بتایا کہ فرنینڈو اور لوئس ہمارے ہاتھ پاس ہیں اور ہم نے انہیں بچا لیا ہے۔ ان کے اہل خانہ انہیں ہسپتال میں دیکھنے آئے۔ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ "ہم صدمے میں تھے ہم کار کے پاس پہنچے اور ہسپتال گئے جہاں دونوں افراد اچھی حالت میں بستر پر تھے"۔

انہوں نے کہا کہ" ہم گرم جوشی سے ملے مگر وہاں زیادہ بات نہیں ہوئی‘‘۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان دانیال ہاگاری نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ بہت حساس اور انتہائی قیمتی ذہانت پر مبنی رفح کے قلب میں فائرنگ کے اندر ایک پیچیدہ ریسکیو آپریشن تھا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں