فلسطین اسرائیل تنازع

امریکا کا 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکومت نے چھ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی "دل دوز" موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس نے اسرائیلی فوج کی فائرنگ مین پھنس جانے کے بعد غزہ کے امدادی کارکنوں سے مدد بھیجنے کی التجا کی تھی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پیر کو ایک پریس بریفنگ میں کہا، "میں آپ کو بتاؤں گا کہ میرے پاس ایک چھوٹی بچی ہے جو چھ سال کی ہونے والی ہے اور اس لیے یہ صرف ایک تباہ کن کہانی ہے، اس بچی کے لیے ایک دل دوز کہانی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے اسرائیلی حکام سے اس واقعے کی فوری تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔"

فلسطین ہلالِ احمر سوسائٹی نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے جان بوجھ کر ایمبولینس کو نشانہ بنایا جو ہند رجب کو بچانے کے لیے بھیجی گئی تھی جب بچی نے مدد کی بھیک مانگتے ہوئے فون پر کئی گھنٹے گزارے اور اس کے اردگرد گولیوں کی آواز گونج رہی تھی۔

ہلالِ احمر نے ایک بیان میں کہا، "قابض افواج نے ہلالِ احمر کے عملے کو دانستہ نشانہ بنایا حالانکہ قبل از وقت رابطہ کاری کر کے ہند کو بچانے کے لیے ایمبولینس کو جائے وقوع پر پہنچنے کی اجازت دی گئی تھی۔"

فلسطینی خبر رساں ایجنسی وافا کے مطابق اہلِ خانہ کو ہند کی لاش غزہ شہر کے مضافاتی علاقے تل الہویٰ کے ایک گول چکر کے قریب ایک کار میں اس کے چچا چچی اور ان کے تین بچوں کی لاشوں کے ساتھ ملی۔

ہند کے چچا سمیح حمادیہ کے مطابق کار گولیوں کے سوراخوں سے چھلنی تھی۔

ہند کی حالتِ زار ک انکشاف 12 دن قبل امدادی کارکنان کے ساتھ اس کی خوف کے عالم میں گفتگو کے دردناک آڈیو کلپس سے ہوا جو غزہ پر اسرائیل کے چار ماہ سے جاری حملے کے دوران شہریوں کے لیے ناممکن حالات کی نشاندہی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں