حماس کا گولہ بارود مصر سے گزرتا ہے: اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک طرف اسرائیل کئی ملکوں کی تنقید کے باوجود غزہ کے علاقے رفح پر آپریشن کی تیاریاں کر رہا ہے تو اسی دوران اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے ایک ہرزہ سرائی کر کے مصر میں غم وغصہ کو بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

سموٹریچ نے کہا کہ حماس کا گولہ بارود مصر سے گزرتا ہے۔ سات اکتوبر کو جو کچھ ہوا اس کی بڑی ذمہ داری مصر پر بھی آتی ہے۔

خیال رہے دسمبر میں بھی سموٹریچ نے مصر پر ماضی میں بھاری مقدار میں گولہ بارود کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر کڑی تنقید کی تھی۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ مصر کو غزہ کے باشندوں کو مصری سرحد سے گزرنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ وہ دوسرے ممالک میں ہجرت کر سکیں۔

صہیونی انتہا پسند وزیر نے اس وقت مصر اور قطر کی طرف سے غزہ میں جنگ ختم کرنے اور مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ خطے پر حکمرانی کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔

سموٹریچ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صہیونیت پارٹی کا سربراہ ہے۔ اس نے تصدیق کی کہ حکومت کے پاس جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنے سے پہلے اس طرح کے کسی منصوبے کی منظوری کا مینڈیٹ نہیں ہے اور ان کی جماعت کسی ایسی جنگ میں شریک نہیں ہو گی جس کو ختم کرنے پر حکومت راضی ہے۔

رفح پر حملے کی اسرائیلی تیاریوں کے تناظر میں مصر نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کو مصر کی جانب دھکیلنے کی صورت میں کیمپ ڈیوڈ امن معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ مصر نے 1979 میں طے پانے والے امن معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں