غزہ پر گولہ باری جاری، کئی ممالک کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی امداد میں تؤقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

غزہ میں جاری فوجی آپریشن کے تناظر میں کئی ممالک نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات میں تؤقف کر دیا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نسل کشی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

یہاں العربیہ ان ممالک کا ایک جائزہ پیش کرتا ہے جنہوں نے تل ابیب کو اسلحے کی سپلائی روک دی ہے اور جنہوں نے نہیں کی۔

اٹلی

اٹلی کے وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم انتونیو تاجانی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے ملک نے غزہ پر حملے شروع ہوتے ہی اسرائیل کو ہتھیاروں کی تمام برآمدات روک دی تھیں۔

اطالوی خبر رساں ایجنسی اے این ایس اے کی ایک رپورٹ کے مطابق تاجانی نے کہا، "سات اکتوبر [2023] سے ہم نے اسرائیل کو مزید ہتھیار نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے اس نکتے پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"

ان کے تبصرے مبینہ طور پر حزبِ اختلاف کی قانون ساز ایلی شلین کے اس بیان کے جواب میں سامنے آئے ہیں کہ اٹلی کو شرقِ اوسط بالخصوص اسرائیل کو ہتھیاروں کی تمام برآمدات روک دینی چاہئیں۔

نیدرلینڈز

ہالینڈ کی ایک عدالت نے پیر کے روز ہالینڈ پر اسرائیل کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پرزہ جات برآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ ان خدشات کے پیشِ نظر کہ وہ اسرائیل کے غزہ جارحیت کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں استعمال ہو رہے تھے۔

لڑاکا طیاروں کے پرزے امریکہ کی ملکیت ہیں لیکن دو طرفہ معاہدوں کے تحت نیدرلینڈز کے ایک گودام میں محفوظ ہیں۔ انہیں اسرائیل سمیت متعدد ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے۔

جاپان

جاپانی کمپنی اتوچو کارپوریشن نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اس ماہ کے آخر تک اسرائیلی ہتھیار بنانے والی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ اپنی شراکت داری ختم کر دے گی۔

اتوچو کے چیف فنانشل آفیسر سویوشی ہاچیمورا نے کہا، گذشتہ ماہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں کو روکنے اور شہریوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرنے کے بعد اتوچو اشتراک ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

"شراکت داری جاپان کی وزارتِ دفاع کی طرف سے سیلف ڈیفنس فورسز کے لیے دفاعی ساز و سامان درآمد کرنے کی درخواست پر مبنی ہے جو جاپان کی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور اس کا کسی بھی طرح سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان موجودہ تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے،" ہاچیمورا نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا۔

انہوں نے کہا، "آئی سی جے کے 26 جنوری کے حکم کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور یہ کہ جاپانی حکومت عدالت کے کردار کی حمایت کرتی ہے، ہم نے پہلے ہی مفاہمت نامے سے متعلق نئی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور فروری کے آخر تک مفاہمت نامے کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔"

سپین

ملک کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا کہ سپین نے اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے کے تمام لائسنس معطل کر دیئے ہیں۔

الباریس نے کہا، "[سات اکتوبر] نے ہمیں فلسطینی عوام کے لیے ایک منصفانہ اور مستقل حل کی اہمیت کا احساس دلایا۔"

سپین نے بھی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی کی حمایت جاری رکھی ہے جب اسرائیل کی جانب سے حماس کے حملے میں اس کے ملازمین کے ملوث ہونے کا الزام لگانے کے بعد امریکا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کی فنڈنگ روک دی۔

ہسپانوی وزیرِ خارجہ نے بار بار جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ آئی سی جے کے احکامات کی تعمیل کریں اور تنازع کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل پر زور دیں۔

بیلجیم

مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ ڈی مورگن کی رپورٹوں کے مطابق بیلجیئم کے والون ریجن کی مقامی حکومت نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے اسرائیل کو گولہ بارود خاص طور پر بارود کی برآمد کے لائسنس معطل کر دیئے تھے جب آئی سی جے نے اس کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔

ہاؤسنگ کے وزیر کرسٹوف کولیگنن کے حوالے سے کہا گیا۔ "اقوام متحدہ کے مرکزی عدالتی ادارے آئی سی جے کے 26 جنوری کے حکم کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں انسانی صورتِ حال کی ناقابلِ قبول خرابی نے وزیر-صدر کو عارضی طور پر جائز لائسنس معطل کرنے پر مجبور کیا۔"

وہ ممالک جو اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتے رہتے ہیں

امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی انسانی حقوق کے گروپوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ نے اسرائیل کو عملی طور پر غیر مشروط مدد اور ہتھیار فراہم کیے ہیں جن میں 3.8 بلین ڈالر سالانہ شامل ہیں۔ کانگریس اس وقت اسرائیل کے لیے 14.5 بلین ڈالر کے اضافی فوجی امدادی پیکج پر رائے شماری کر رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق برطانیہ نے 2015 سے اسرائیل کو کم از کم $599 ملین مالیت کی فوجی برآمدات کا لائسنس دیا ہے جس میں جنگی طیارے، میزائل، ٹینک، ٹیکنالوجی، چھوٹے ہتھیار اور گولہ بارود کے اجزاء شامل ہیں۔

برطانیہ غزہ میں اس وقت استعمال ہونے والے ایف-35 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے تقریباً 15 فیصد اجزاء فراہم کرتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جرمنی نے گذشتہ سال اسرائیل کو 379 ملین ڈالر سے زائد مالیت کا فوجی سازوسامان اور اسلحہ برآمد کیا جو 2022 سے 10 گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد جرمنی نے 185 اضافی لائسنسوں کی منظوری دی۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت بھی اسرائیل کو اسلحے کی مسلسل فروخت پر تنقید کی زد میں آگئی ہے۔

کارکنوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ قانون سازی کے باوجود اسرائیل کو فوجی سازوسامان برآمد کرنے کے لیے ریگولیٹری خامیاں استعمال کر رہی ہے جس میں غیر ملکی عناصر کو اسلحے کی برآمد پر پابندی ہے اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہونے کا خطرہ ہو۔

دریں اثناء نکاراگوا نے اسرائیل کے اقدامات میں شریک ہونے پر امریکہ، کینیڈا، جرمنی اور ہالینڈ کو آئی سی جے میں لے جانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ نکاراگوا نے ان ممالک سے اسرائیل کو ہتھیار بھیجنا بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ وہ انہیں نتائج کے لیے ذمہ دار قرار دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

کئی انسانی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جہاں اسرائیل کے فوجی حملے میں اب تک کم از کم 28,473 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

تاہم اسرائیل بڑے پیمانے پر انسانی نتائج کے باوجود گنجان آباد علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں اور گولہ بارود کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ عالمی رہنماؤں نے اسرائیلی حکومت پر شہری ہلاکتیں کم کرنے پر زور دیا ہے لیکن اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں بے مثال سطح پر لوگوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں