حماس پر قیدیوں کی بازیابی کے لیے دباؤ ڈال رہے: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی کی بڑی آبادی نقل مکانی کرکے رفح شہر میں پناہ گزین ہے اور اسی موقع پر اس شہر پر حملہ کرنے کے اسرائیلی منصوبے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیل نے رفح پر فضائی حملے تیز کردئیے ہیں۔ ان حملوں میں پیر کے روز بھی درجنوں فلسطینی شہید ہو گئے۔ اسرائیلی فوج اس وقت رفح پر زمینی آپریشن کی تیاری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

مختلف ملکوں اور عالمی برادری کی جانب سے شدید رد عمل کے باوجود اسرائیل نے رفح پر حملے کی تیاریاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اب اسرائیلی وزیر اعظم نے پیر کو اعلان کیا کہ اسرائیل غزہ میں مزید قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرے گا۔ انہوں نے مقاصد کے حصول کے لیے جاری فوجی دباؤ کو ضروری قرار دے دیا۔ نیتن یاہو کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے پیر کی صبح رفح میں ایک آپریشن کے دوران دو قیدیوں کی بازیابی کے اعلان کے بعد جاری کیا گیا۔

اسرائیل نے رفح شہر پر زمینی، سمندری اور فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔ پیر کے روز رفح میں 100 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا۔ دو مساجد اور کئی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق درجنوں متاثرین اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

واضح رہے غزہ کی پٹی کی کل آبادی 23 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور اس میں سے 14 لاکھ افراد نے رفح میں پناہ لے رکھی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان سیموئیل واربرگ نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کو رفح میں کسی بھی اسرائیلی فوجی کارروائی پر گہری تشویش ہے۔

اس سے قبل مصر نے بھی متعدد بار فلسطینی شہر پرکسی آپریشن کے حوالے سے تنبیہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1979 میں طے پانے والے امن معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں