ہم دقیانوسی تصورات کو تبدیل کرنے والی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں: منیٰ المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں آرٹس کی فیکلٹی کی پہلی خاتون ڈین منیٰ المالکی نے کہا ہے شاہ سعود یونیورسٹی اور وزارت ثقافت کے درمیان شراکت نیز دیگر بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت میں بھی معیاراتی فنکارانہ تعلیمی پروگرام تشکیل دے سکتی ہے۔ یہ شراکت ہمارے لیے فنون لطیفہ کو فروغ دینے اورموسیقی میں تخلیقی سوچ رکھنے اور ثقافت کو پھیلانے والی نسل کو پروان چڑھانے میں مدد گار ہوسکتی ہے۔

منیٰ المالکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ کالج آف آرٹس سے فارغ التحصیل طلباء کےحوالے سے پر آئندہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہمارے سعودی معاشرے سے دقیانوسی تصورات کو تبدیل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم آرٹ سے محبت کے دور میں جی رہے ہیں اور دوسروں سے پیار کرتے ہیں۔ لہذا ان خیالات کو اس نسل کے دلوں میں داخل کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے، کیونکہ یہ انسان کی روحانیت کو مکمل کرتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ڈرائنگ انسان اور تہذیب کی صنعت کو بہتر بنانے کے لئے فنون لطیفہ کو پھیلانے کا ذریعہ ہے کہ ہم سعودی شہری کے طور پر یہ دنیا کو دکھانا چاہتےہیں کہ ہم فن کی ایک پوری تاریخ تھے"۔

پہلے آرٹس کالج کا قیام

المالکی نے پہلے کالج آف آرٹس کے قیام کی کہانی کا بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبد اللہ بن فرحان کی توجہ اس طرف دلائی جب کنگ سعود یونیورسٹی نے آرٹس کے علوم کی تدریس کے لیے ایک کالج کے قیام پر زور دیا۔

چار سال قبل شروع کیے گئے اس کالج کو ہم ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ شاہ سعود یونیورسٹی میں آرٹس فیکلٹی معیار، تخصص اور اس کے تعلیمی پروگراموں کی وجہ سے ممتازمقام کی حامل ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر منیٰ المالکی شاہ سعود یونیورسٹی کے ایک ممتاز رہ نما ہیں جو فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز میں اسٹریٹجک پلان کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں