فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں امدادی ادارے'اونروا' کی فنڈنگ روکنا موت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے دنیا بھر میں امدادی سرگرمیوں کے لیے مشہور ادارے ' شاہ سلمان ریلیف ' نے قرار دیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی کام کرنے والے ادارے ' اونروا' کی فنڈنگ روکنا موت کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بات سعودی ادارے نے منگل کے روز کہی ہے۔

واضح رہے سعودی عرب شروع دن سے ہی ' اونروا ' کے فنڈز روکنے کے خلاف موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ ، کینیڈا وغیرہ نے اس وقت سے ' اونروا ' کی فنڈنگ روک دی ہے جب سے اسرائیل نے اس یو این یجنسی کے 12 کارکنوں پر الزام لگایا تھا کہ یہلوگ اسرائیل پر حملے مین ملوث تھے۔

تاہم بلا تحقیق کارروائی کے ذمرے مین امریکہ سمیت کئی اسرائیلی اتحادی ملکوں نے ' اونروا' کے لیے فنڈز روک دیے۔ صرف غزہ مین ' اونروا' کے 13000 کارکن امدادی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔ جن میں سے 12 پر اسرائیلی الزام نے پورے ادارے کی بندش کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

ان حالات مین ' اونروا' بھی اعلان کر چکا ہے اگر فنڈنگ کو روکا گیا تو ماہ فروری کے بعد غزہ میں جنگ زدہ فلسطینیوں کے لیے امدادی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکے گا۔

اسرائیل اقوام متحدہ کے ادراوں پر بے دریغ الزام لگانے کا معمول رکھتا ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کے نمائندوں سمیت سیکرٹری جنرل کو بھی نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ ابھی تازہ الزام یہ عاید کیا ہے کہ ' اونروا ' کے مرکز میں حماس کی زیر زمین سرنگ ملی ہے۔

سعودی امادای ادارے' شاہ سلمان ریلیف ' کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے منگل کے روز کہا ' ہمیں غزہ میں رہنے والے لاکھوں معصوم لوگوں کو محض اس وجہ سے سزا نہیں دینی چاہیے کہ چند افراد پر اسرائیل نے ایک الزام لگا دیا ہے۔ '

انہوں نے مزید کہا ' اگر آپ یہ بڑی تباہی کی بات ہے آپ تقریباً بیس لاکھ افراد کو دیکھتے ہیکہ وہ ایک چھوٹی سی جگہ پر رہ رہے ہیں اور اور آپ ان سے خوراک، پانی اور ادویات کی رسائی روک لیتے ہیں تو اس مطلب ہے کہ آپ نے انہیں تباہی اور موت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔'

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ سعودی شاہی عدالت کے مشیر بھی ہیں۔ وہ آنے والے دنوں میں رفح میں اسرائیلی فوج کی یلغار دیکھ رہے ہیں۔ جہاں اس وقت 13 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ گزین کے طور پر موجود ہیں۔ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ ڈاکتر ربیعہ نے کہا ہے' اس طرح کا کوئی بھی حملہ ایک نئی تباہی کا باعث بنے گی۔ اس جنگی یلغار کی صورت رفح کی راہداری سے غزہ میں امدادی سامان لے جانا بھی مزید مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ ہزاروں نئی ہلاکتوں کا بھی خطرہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں