فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل رفح میں زمینی جنگ کی تیاری کیوں کر رہا ہے؟ حملے کا مطلب کیا لیا جائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی رفح پر زمینی جنگ کی تیاری جاری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ رفح میں موجود 13 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کو ایک بار پھر نقل مکانی کرنا ہو گی۔ یہ فلسطینی اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹ کے مطابق 13 لاکھ کی تعداد میں سات اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد غزہ کے باقی علاقوں سے منتقل ہوئے ہیں۔

اب جبکہ اسرائیلی جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے اسرائیلی فوج نے رفح میں بھی بمباری شروع کر دی ہے۔ مصری سرحد سے جڑے اس رفح شہر کی اہمیت سرحدی اعتبار سے بھی ہے اور غزہ کے لیے راہداری کے حوالے سے بھی۔ اس تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ اسرائیل رفح پر باقاعدہ حملے کی تیاری کیوں کر رہا ہے؟

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے رفح کو حماس کا آخری مرکز قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق یہ حماس کی چار بٹالینوں کا گہوراہ بھی ہے۔ اس لیے اسرائیل اسے تباہ کیے بغیر حماس کی تباہی کا اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکتا ہے۔

اسرائیل نے حماس کے خاتمے کی جنگی مہم سات اکتوبر سے شروع کر رکھی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک 28 ہزار سے زائد فلسطینی قتل اور 23 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ ان 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد سلسلہ شروع ہوا جنہیں حماس نے اسرائیل میں حملے کے دوران ہلاک کیا تھا۔ اس موقع پر اسرائیل سے 253 افراد کو یرغمالی بنایا گیا تھا۔ جن میں سے 132 اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔

رفح میں کتنے لوگ ہیں اور کس حال میں رہتے ہیں؟

اقوام متحدہ کے ادارے 'اونروا' کے مطابق رفح میں 15 لاکھ فلسطینیوں کو امداد دی جا رہی ہے۔ یہ تعاداد سات اکتوبر سے پہلے کی رفح کی آبادی سے چھ گنا زیادہ آبادی کے برابر ہے۔ ان میں سے بہت بڑی تعداد گلیوں میں خیمے لگا کر رہ رہی ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو ساحل سمندر سے متصل ریت پر گھروندوں کے بغیر بیٹھے ہیں۔ اسی طرح گندگی بھرے ماحول میں بے یارو مدد گار پڑے ہیں۔

ڈاکٹر اور طبی عملے کے لوگ ان لاکھوں بے گھر پڑے فلسطینیوں کو بیماریوں اور وباؤں سے بچانے کی کوشش میں ہیں۔ ایک ڈاکٹر جس نے حال ہی میں غزہ کو چھوڑا ہے رفح کو ایک بند جیل سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک انتہائی گنجان اور تنگ پڑ چکی جگہ بن گئی ہے ۔ جہاں سے گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی مشکل سے ہو پاتی ہے۔

بے گھر فلسطینی جائیں گے کہاں؟

اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ جنوب کی طرف نکل جائیں۔ اب نیتن یاہو اپنی فوج کو کہہ چکے ہیں کہ وہ رفح سے فلسطینیوں کے انخلاء کا منصوبہ بنانے کے لیے کہہ دیا ہے۔ اسی طرح امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں تو رفح میں پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہیں مل رہی ہیں۔

دوسرے ملکوں کا رد عمل کیا ہے؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے نیتن یاہو سے کہا ہے کہ رفح پر جنگی یلغار سے پہلے ایک منظم اور قابل بھروسہ منصوبہ بنانا ضروری ہے۔ تاکہ عام شہری بحفاظت رہیں۔

اسرائیل کے دوسرے اتحادیوں بشمول برطانیہ و جرمنی نے رفح پر اسرائیل کی امکانی یلغار پرتشویش ظاہر کی ہے۔ ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے اس ممکنہ جنگی مہم کے بارے میں پریشانی ظاہر کی ہے۔ مصر نے بھی انتباہ کیا ہے کہ اس سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں پر اثر کے حوالے سے مضمرات سے آگاہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں