فلسطین اسرائیل تنازع

بین الاقوامی فوجداری عدالت حماس رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے:اسرائیلی متاثرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے شہریوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر حماس کے خلاف دباؤ بڑھانے کی کوشش کو تیز کر دی ہے۔ سات اکتوبر کو حماس کےحملے کے متاثرہ افراد کی بدھ کے روز یہ کوشش اس وقت سامنے آئی ہے جب جنوبی افریقہ کی طرف سے ایک بار پھر بین الاقوامی عدالت انصاف سے رفح پر اسرائیلی جنگی یلغار کے سلسلے میں رجوع کیا ہے۔ اسرائیلی متاثرین کو تل ابیب سے ہالینڈ روانہ کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بھی اسرائیلی شہریوں نے پچھلے ہفتوں میں بھی ایسے ہی ایک موقع پر بین الاقوامی عدالت کے سامنے شور کیا تھا۔ اسرائیلی متاثرین سات اکتوبر نے فلسطینی تحریک مزاحمت کی کارروائیوں کو جرم قرار دیتے ہوئے اس بارے میں تحقیقات کے لیے زور دیا کہ فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر تحقیقات تیز کریں

متاثرین میں سے 41 سالہ تلہیمی کے کزن نے اودی گورہین نے کہا' اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان کے خلاف دنیا اپنا کردار ادا کرے اور ان کی آزادی ختم کی جائے۔' گورین نے کہا تلہیمی کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس کی لاش آج بھی گزہ میں پڑی ہے۔'

سات اکتوبر کے حملے میں بچ جانے والے افراد کے اہل خانہ کا مطالبہ تھا کہ فوجداری عدالت حماس رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کرے۔

گورین زندہ بچ جانے والے اسرائیلیوں اور یرغمالیوں کے خاندانوں کے تقریباً ایک سو لوگوں کے گروپ میں شامل تھا۔ یہ گروپ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں آئی سی سی کے ہیڈ کوارٹر جانے کی تیاری میں تھے۔

واضح رہے اسرائیل آئی سی سی کا رکن نہیں ہے اور اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ لیکن پراسیکیوٹر کریم خان نے کہا ہے کہ ان کی عدالت کا دائرہ اختیار اسرائیل میں حماس اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلیوں کی طرف سے کیے جانے والے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں