غزہ پر مصر کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں: ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز کہا کہ ترکیہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مصر کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکی مختصر مدت میں مصر کے ساتھ تجارت کو 15 بلین ڈالر تک لے جائے گا۔

قاہرہ میں صدر عبدالفتاح السیسی سے بات چیت کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایردوآن نے کہا کہ غزہ میں انسانی المیہ ان کی بات چیت کے ایجنڈے میں سرفہرست تھا اور مزید کہا دونوں ممالک توانائی اور دفاعی تعاون کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ایردوآن 2012 کے بعد اپنے پہلے دورے پر بدھ کے روز مصری دارالحکومت پہنچے جس سے علاقے کے دو بڑے ممالک کے درمیان تعلقات میں سردمہری ختم ہونے کی تصدیق ہوئی۔

قاہرہ کے ہوائی اڈے پر ایردوآن کا استقبال ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی نے کیا اور ان کی آمد کی لائیو فوٹیج میں دونوں افراد کو ٹارمک پر مصافحہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

ایردوآن جو غزہ جنگ کے بارے میں اسرائیل کے طرزِ عمل کے صریح ناقد ہیں، نے پیر کو کہا کہ وہ السیسی سے خونریزی کو روکنے کی کوششوں پر بات کریں گے۔

مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک نئی جنگ بندی کے لیے قطر اور امریکہ کے ساتھ مشترکہ کوششوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

اسرائیل کا ایک وفد منگل کو قاہرہ میں تھا جبکہ حماس کے وفد کی بدھ کے بعد آمد متوقع تھی۔

مصر اور ترکی نے 2013 کے بعد تعلقات منقطع کر لیے تھے جب اس وقت کے مصر کے وزیرِ دفاع السیسی نے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جو ترکی کے اتحادی اور اخوان المسلمون تحریک کا حصہ تھے۔

اس وقت ایردوآن نے کہا تھا کہ وہ السیسی جیسے "کسی شخص" سے کبھی بات نہیں کریں گے جو 2014 میں عرب دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے صدر بنے تھے۔

لیکن تعلقات میں سردمہری 2021 کے بعد سے پگھل گئی جب ترکی کے ایک وفد نے روابط کو معمول پر لانے کی بات کرنے کے لیے مصر کا دورہ کیا۔

گذشتہ جولائی تک قاہرہ اور انقرہ نے ایک عشرے میں پہلی بار ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفیر مقرر کیے تھے۔

نومبر 2022 میں ایردوآن اور السیسی نے قطر میں مصافحہ کیا جسے مصری صدارت نے ان کے تعلقات کے لیے ایک نئی شروعات کے طور پر پیش کیا۔

اس کے بعد دونوں رہنما کئی دوسرے ممالک میں مل چکے ہیں جس میں نومبر میں سعودی عرب اور ستمبر میں ہندوستان میں جی 20 سربراہی اجلاس میں ملاقات شامل ہے۔

تعلقات میں طویل جمود کے باوجود دونوں کے درمیان تجارت جاری رہی۔ مصری مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ترکی مصر کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

اس ماہ کے شروع میں ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ مصر کو ڈرون فراہم کرنے کے لیے ایک معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی تھی۔

ایردوآن نے کہا کہ ان کی مصر کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ملاقاتوں میں "دیکھا جائے گا کہ غزہ میں ہمارے بھائیوں کے لیے مزید کیا کیا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "ترکی کے طور پر ہم خونریزی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھیں گے۔"

ایردوآن فلسطینی سرزمین پر بمباری اور زمینی کارروائی کے خلاف اسرائیل کے سخت ترین ناقدین میں سے ایک کے طور پر ابھرے ہیں جس میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 28,576 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

7 اکتوبر کے حملے سے قبل استنبول حماس کے سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔ نیٹو کے رکن نے حماس کے سربراہوں سے وہاں سے چلے جانے کا کہا تھا جب وہ غیر معمولی حملے کا جشن مناتے ہوئے ویڈیو میں پکڑے گئے۔

انقرہ نے نومبر میں اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور حماس کی قیادت کے ساتھ وقفے وقفے سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں جو ترکی کو جنگ بندی کے مذاکرات میں ممکنہ اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں