محمود عباس کا حماس سے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کی ڈیل جلد مکمل کرنے پر زور

امریکہ اور عرب ممالک قیدیوں کا معاہدہ کرانے میں سنجیدگی سے کام کریں تاکہ بدترین المیے کا شکار فلسطینیوں کو کسی نئی آفت سے بچایا جا سکے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں "ایک اور آفت" سے بچنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ جلد قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ مکمل کرے۔

انہوں نے کہا کہ"ہم حماس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قیدیوں کے معاہدے کو جلد از جلد مکمل کرے۔ تاکہ فلسطینی قوم 1948ء کے نکبہ سے بدتر المیے سے بچ سکے۔ ساتھ ہی رفح پر حملے سے بچا جا سکے جو کسی بھی وقت حملے کی صورت میں کسی بڑے سانحے، نقل مکانی اور خون خرابے کا باعث بن سکتا ہے۔

محمود عباس نے امریکی انتظامیہ اور برادر عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے معاہدے کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کریں، تاکہ فلسطینی عوام کو اس تباہ کن جنگ کی لعنت سے بچایا جا سکے"۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اب بھی زیر حراست قیدیوں کے سو کے قریب رشتہ دار بدھ کے روز ہیگ گئے تاکہ حماس کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شکایت درج کرائی جا سکے۔ اس شکایت میں اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ حماس غزہ میں ان کے پیاروں کے ساتھ ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی مرتکب ہو رہی ہے‘‘۔

اسرائیل کا اندازہ ہے کہ غزہ میں اب بھی تقریباً 130 قیدی قید ہیں، جن میں 29 ہلاک ہوچکے ہیں۔

قیدیوں کے اہل خانہ اسرائیلی حکام پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ چار ماہ سے زائد عرصے سے زیر حراست ان کے پیاروں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ مذاکرات کریں۔

نومبر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی میں اسرائیلی جیلوں سے 240 فلسطینیوں کے بدلے میں 105 اسرائیلیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں