اسرائیلی فوج نے السنوار کی ایک اور ویڈیو حاصل کرلی، سرنگوں میں تلاش جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں جاری جنگ کے دوران حماس کے غزہ کے سربراہ یحییٰ السنوار سب سے مطلوب ترین کمانڈروں میں شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج انہیں ہر قیمت پر زندہ تلاش کرنا اور پکڑنا چاہتی ہے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اسے جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں موجود سرنگوں میں السنوار کی موجودگی کی ایک نئی ویڈیو ملی ہے۔ ایسی ہی ایک ویڈیو چند روز اسرائیلی فوج کے ہاتھ لگی تھی جس میں السنوار کو اپنی بیوی بچوں کےساتھ ایک سرنگ میں دکھایا گیا تھا۔

اس تازہ ویڈیو میں یحییٰ السنوار جنگ کے 3 دن بعد اپنے بھائی، اہلیہ اور اپنے 3 بچوں کے ساتھ نظر آئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ ویڈیو ابھی جاری نہیں کی گئی۔ البتہ پہلی ویڈیو کو بیشتر عالمی ذرائع ابلاغ نے نشر کیا ہے اور ان میں ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ بھی شامل ہے۔

اسرائیل کے این 12 ٹی وی چینل کی کل رپورٹ کے مطابق نئی ویڈیو بعد میں نشر کی جائے گی۔

اسرائیلی سکورٹی اپریٹس کے اندازوں کے مطابق السنواراسرائیلی فوجیوں کے آگے آگے کئی کلومیٹردور تھا جو اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ خان یونس سرنگوں کے اندر کئی دنوں تک السنوار کا تعاقب کیا گیا۔ ان میں سے بہت سے لوگ اس جگہ پہنچے جہاں کچھ دیر قبل تھا تاہم انہیں پتہ چلا کہ اس نے جگہ بدل لی ہے۔ البتہ اس جگہ اس کی موجودگی کے ثبوت اور اشارے چھوڑے۔

یہ ایک خلا ہے کہ اسرائیلی فوج انٹیلی جنس معلومات کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے درجنوں سرنگوں میں السنوار اور دیگر حماس کمانڈروں کا تعاقب کیا۔ اسرائیلی فوج کو توقع ہے کہ وہ جلد السنوار کے ٹھکانے تک پہنچ جائے گی کیونکہ اس نے زیرزمین سرنگوں میں السنوار کی تلاش کا دائرہ اور رفتار بڑھا دی ہے۔

سرنگوں کے اندر نصب کیمروں کے ذریعے پتا چلا کہ السنوار کو ان جگوں پر دیکھا گیا ہے۔ تاہم السنوار کس طرح ایک سرنگ سے دوسری سرنگ میں منتقل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کس طرح حرکت کرتا ہے اس پر تحقیق ہو رہی ہے۔ فوج صرف 4 مقامات پر پہنچی جہاں یہ واضح ہو گیا کہ وہ خان یونس میں موجود ہے مگر فوج کے پہنچنے سے قبل وہ دوسری سرنگ میں چلا گیا۔

عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ کی رپورٹ کے مطابق السنوار اور دوسرے کمانڈروں کے لیے چھپنے کی جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ حماس کے سینیر جنگجو تیزی سے جگہیں بدل رہے ہیں۔

کیا السنوار مصر چلے گئے؟

اس بات کی تصدیق اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ حماس کے نمائندوں نے کہا ہے کہ وہ السنوار اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں حال ہی میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ چونکہ اس کے پاس زیادہ تر مغوی ہیں اس لیے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسماعیل ہنیہ اگر تبادلے کے معاہدے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو بھی السنوار ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔

اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے عہدیداروں کو یقین نہیں ہے کہ یحییٰ سنوار خان یونس سے مصر چلے گئے ہیں۔ اسرائیلی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس تک پہنچ سکتے ہیں لیکن ان کے وہاں سے جانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ فوج کو توقع ہے کہ غزہ میں حماس کے سکیورٹی دفتر کے سربراہ اب بھی جنوبی غزہ کی پٹی میں سرنگوں کے اندر ہیں اور اسرائیلی فوج کی طرف سے کیے جانے والے آپریشن میں ہر پیش رفت کے بعد السنوار کے ٹھکانوں کا دائرہ تنگ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں