فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج کا غزہ کے الناصر ہسپتال پر حملہ، ایک مریض قتل چھ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں الناصر ہسپتال میں مریضوں پر فائرنگ کر کے ایک مریض کو قتل اور کئی کو زخمی کر دیا۔
فوج کا الناصر ہسپتال پر یہ حملہ جمعرات کی صبح کیا گیا ہے۔

غزہ میں ہسپتالوں، سکولوں اور مسجدوں پر اسرائیلی فوج کےحملے ایک معمول رہے ہیں لیکن اب چونکہ اسرائیلی فوج کے اہداف تعداد میں بہت کم رہ گئے ہیں اس لئے اب اس طرح کے واقعات کی تعداد کم ہو گئی ہے لیکن چند دن کے وقفے کے بعد ضرور اسرائیلی فوج ایسی کارروائی کرتی ہے جس انسانی المیے میں مزید اضافہ ہو۔

الناصر ہسپتال غزہ کے اکا دکا بچ گئے ہسپتالوں میں سے ایک بڑا ہسپتال ہے ہے جہاں جمعرات کی صبح حملہ کیا گیا۔ فوج کی فائرنگ سے ایک مریض ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے۔ ان زخمیوں اور ہلاکت کی الناصر ہسپتال کے طبی عملے نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

فوج کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ہسپتال میں جمع ہوچکے فلسطینی بے گھروں کو نکالنے کے لئے آپریشن کر رہی تھی۔

غزہ سے فلسطینیوں کا صفایااسرائیلی فوج کے اہم اہداف میں سے ایک ہے۔ اسی لئے جن علاقوں میں فلسطینیوں کو پہلے بے گھر کر کے دھکیلا گیا تھا۔ اب ان علاقوں سے بھی نکال کر ایک بار پھر بے دخل کرنے کی کوشش میں ہے۔ جیسا کہ اسرائیلی فوج نے پہلے پورے غزہ سے 14 لاکھ کے قریب فلسطینیوں کو رفح شہر کی طرف بے گھر کے دھکیلا تھا اب وہاں سے نکالنے کے لئے اگلی جنگی یلغار کر رہی ہے۔

واضح رہے جنوبی غزہ میں واقع الناصر ہسپتال پر پہلے بھی اسرائیلی فوج کے حملے ہو چکے ہیں نیز اس کا محاصرہ کیا جاتا رہا ہے۔ اب جمعرات کے روز اس کا دوبارہ اہتمام کیا گیا تاکہ بے گھر فلسطینیوں کے علاوہ زخمیوں اور مریضوں میں بھی مزید خوف وہراس پیدا کر کے انہیں غزہ چھوڑ کر کہیں اور جا بسنے کا سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔ نیز انہیں سزا دینا ہے کہ انہوں نے ابھی حماس کی مخالفت کیوں شروع نہیں کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج شروع سے یہ دعوی بھی کرتی آئی ہے کہ حماس ان ہسپتالوں کو اپنے جنگی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔

الناصر ہسپتال پر تازہ فوجی حملے کے بعد بنائی گئی ایک فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہسپتال میں بجلی اور روشنی کا سب نظام توڑ پھوڑ کا شکار بنا دیا گیا ۔ ہسپتال کے اندر تک دھواں یا گرد اڑ رہی ہے۔طبی عملہ مریضوں کی وہیل چئیرز جو کھینچ رہا ہے۔ اور موبائل فون کی لائٹس سے روشنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک اندھیرے کمرے میں زخمی درد سے کراہ رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کو اس فوٹیج کے اسرائیل کے غیر جانبدار ذرائع سے ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ہسپتال میں پناہ لئے ہوئے فلسطینیوں کو ہسپتال سے نکل جانے کے لئے راستہ دیا تھا۔ مگر ان کے نہ جانے کے بعد حملہ کیا گیا۔

الناصر ہسپتال کے باقی رہ جانے والے سرجنوں میں سے ایک ڈاکٹر خالد السیر کا کہنا ہے' جمعرات کو صبح سویرے نشانہ بننے والے سات مریضوں کا پہلے ہی علاج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز ڈرون حملے میں ایک ڈاکٹر اس وقت ہلکا زخمی ہوا جب ایک ڈرون نے ہسپتال کی بالائی منزلوں پر فائرنگ کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں