اسرائیلی وار کیبنٹ میں غزہ جنگ کے حوالے سے شدید اختلافات

اسرائیلی عسکری اداروں اورنیتن یاھو کے درمیان اختلافات بڑھنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی میں حماس کے خاتمے کی اسرائیلی جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں فیصلہ سازوں کے مابین اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ یہ جنگ اب پانچویں مہینے میں داخل ہونے والی ہے مگر ابھی تک اسرائیل کو اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔

زبردست تناؤ، فوج نیتن یاہو کی مخالف

آج جمعرات کو نئی اطلاعات کا انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا نازک سرکاری اتحاد ٹوٹنے لگا ہے۔ وار کیبٹنٹ کے ارکان بینی گانٹز اور گیدی آئزنکوٹ نے وار کونسل سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں ارکان نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر الزام عاید کیا کہ وہ اہم نوعیت کے فیصلوں بالخصوص حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے حوالے سے من مانی پر مبنی فیصلے کررہےہیں۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے تناؤ کے ایک اور محاذ کے بارے میں بات کی کہ نیتن یاہو فوج اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان سے الجھ رہے ہیں۔ نیتن یاھو اور عسکری اداروں کے درمیان یہ تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم نے حماس کے ساتھ قیدیوں کی ڈیل پر بات کے لیے موساد چیف ڈیوڈ بارنیا، شین بیت کے سربراہ رونن بار اور دیگر کو مصر بھیجا تھا۔

نیتن یاہو بینی گینٹز اور گیڈی آئزنکوٹ نے قاہرہ سربراہی اجلاس کے حوالے سے فیصلے کرنے کے عمل کو مکمل طور پر آمرانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نیتن یاھو نے ان سے مشاورت نہیں کی۔

براڈ کاسٹن کارپوریشن نے وضاحت کی کہ جنگی کونسل کے دونوں وزراء بینی گینٹز اور گیڈی آئزنکوٹ کونسل سے استعفی دینے اور نیتن یاہو حکومت چھوڑنے والے تھے لیکن انہوں نے لبنانی سرحد میں ہونے والی پیشرفت اور وہاں کشیدگی میں اضافے اور حماس کے ساتھ قیدیوں کے حساس معاملے کے پیش نظر فی الحال کیبنٹ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو نے وفد کو دوبارہ قاہرہ جانے سے روک دیا حالانکہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا اور شین بیت کے چیف رونن بار نے اسرائیل واپس آنے کے بعد انہیں بتایا کہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ٹھوس دلائل موجود ہیں تاکہ کسی نئی ڈیل تک پہنچا جا سکے۔

وزیر اعظم کے فیصلے نے احتجاج کے طوفان کو جنم دیا۔ براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر اعظم ذاتی وجوہات کی بناء پر قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تکمیل میں رکاوٹ ہیں۔

اس کے علاوہ گینٹز اور آئزنکوٹ نے بدھ کی رات دیر گئے ملاقات کی اور اس مرحلے پر حکومت کے مشترکہ موقف، شمالی محاذ پر تناؤ اوریرغمالیوں کے مسئلے کی حساسیت کی وجہ سے فیصلہ کیا۔

اسی دوران نیتن یاہو کے ترجمان گائی لیوی نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ شائع کی جس میں انہوں نے سکیورٹی اداروں کے سربراہان پر تنقید کی تاہم بعد ازاں انہوں نے ٹویٹ حذف کردی تھی۔ یہ ٹویٹ وزیراعظم کے دفتر اور عسکری اداروں کے درمیان اختلافات کا واضح اشارہ ہے۔

لیوی نے اپنے ٹویٹ میں لکھاکہ "یہ نیتن یاہو نہیں تھا جنھیں صبح چار بجے انتباہی کال موصول ہوئی مگر وہ اسے نظرانداز کرکے سونے چلے گئے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں نے سات اکتوبر کے حملے کو نظرانداز کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں