اسرائیل کو 'ویٹی کن سٹی' کے اسرائیل مخالف بیان پر اپنی تنقید کیوں نرم کرنا پڑ گئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے 'ویٹی کن سٹی' کی طرف سے غزہ میں ہلاکتوں پر تنقیدی ریمارکس کے الفاظ کو تبدیل کر کے نرم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمعرات کے روز اسرائیلی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 'ویٹی کن' کے نائب پیٹرو پیرولین نے قابل افسوس قرار دیا تھا نہ کہ' ڈیپلور ایبل' کا لفظ استعمال کیا تھا۔

پوپ کے نائب نے منگل کے روز کہا حماس کے حملے کا جواب مناسب نہیں تھا ۔ اس وجہ سے غزہ میں قتل عام ہوا ہے۔ اس سے اگلے روز ویٹیکن میں اسرائیلی سفارتخانے نے اس پر طیش کا اظہار کیا کہ غزہ میں ہونے والی ساری ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ داری حماس پر عاید ہوتی ہے۔

تاہم جمعرات کے روز اسے قابل افسوس کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا۔ یہ ترجمے کی غلطی کی وجہ سے لفظ استعمال ہوا۔ واضح رہے پوپ فرانسس نے مشرق وسطیٰ اور اس کے علاوہ تمام پر تشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔ لیکن اسرائیل کے حوالے سے پوپ کے ریمارکس بطور خاص بڑے تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے بڑی حساسیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل اور ویٹی کن سٹی کے درمیان تعلقات سات اکتوبر کے بعد سے کشیدگی کی طرف گئے ہیں۔ یہودی گروپ پوپ فرانسس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے غزہ پر حملے کو حق دفاع کی بنیاد پر کیا گیا اقدام قرار دینے میں ناکام رہے ہیں۔

اسرائیلی سفارت خانے نے جمعرات کے روز اس معاملے میں تنقید کو نرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید پر مبنی بیان میں انگریزی کا 'قابل افسوس' کا لفظ استعمال کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں سٹاف نے ترجمہ کرتے ہوئے ' ڈیپپلورول کا لفظ استعمال کیا گیا۔

سفارت خانے کی طرف سے مزید کہا گیا ' اطالوی زبان کے ترجمے میں ' بد قسمتی ' کے معنوں کی ادائیگی کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ بد قسمتی کے لفظ سے قدرے زیادہ ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں