سعودی شہری اپنی زندگی میں کون سے اعضا زیادہ عطیہ کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آپ کے کچھ اعضاء کاعطیہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ہم اپنے جسم کا کوئی عضو اس وقت کسی کو عطیہ کرتےہیں جب ہمارےسامنے کوئی ایسا شخص آتا ہے جس کی زندگی بچانے کے لیے اسے ہمارے عضو کی ضرورت ہوتی ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ انسانی عطیہ کی قدر کے بارے میں قابل ذکر آگاہی پر یقین رکھتے ہو اور آپ اپنے جسم کا ایک حصہ دوسرے کودیتے ہیں۔

"سب سے زیادہ گردوں کی ڈیمانڈ"

سعودی عرب میں "گردوں"میں سے ایک یا "جگر" کا ایک حصہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ مانگا جاتا ہے۔ ان دونوں اعضا میں قابل ذکر ٹرانسپلانٹیشن ہے۔

سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن کے مطابق گردے وہ عضو ہیں جن میں پیوند کاری کی شرح سب زیادہ ہے۔ کیونکہ 1979ء سے سال 2022 تک سعودی عرب میں 11 ہزار شہریوں نے اعضا عطیہ کیے ہیں۔

جہاں تک جگر کے حصوں کو عطیہ کرنے والوں کی بات ہے وہ پیوند کاری کے پروگرام کے آغاز سے لے کر گذشتہ سال کے اختتام تک تقریبا 2599 تک ہے۔ گردوں کے علاوہ جگر ، دل کے حصے، پھیپھڑے اور لبلبےکی پیوند کاری کی گئی۔

عطیہ کنندگان میں کون سب سے آگے؟

آگن ٹرانسپلانٹیشن سینٹر کے مطابق سعودی عرب میں زندہ شہریوں کی طرف سےعطیہ کرنے کا تناسب دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ "کون سا صنف زیادہ عطیہ دیتا ہےہے؟"

سعودی سنٹر برائے اعضاء کی پیوند کاری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلال القوفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ زندہ عطیہ دہندگان کی فہرستوں میں سب سے زیادہ عطیہ دینے والوں میں خواتین سر فہرست ہیں۔ جبکہ مرد دماغی موت کے بعد سب سے زیادہ عطیہ کرتے ہیں۔

دوسری طرف نوجوانوں کے زمرے میں دونوں جنسوں کے عطیہ دہندگان میںےتقریبار برابر ہیں۔

القوفی نے جان بچانے کے لئے عطیہ کرنے کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنےکی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں میں صحت مند زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آرگن ٹرانسپلانٹ سینٹر جلد ہی ایک الیکٹرانک ڈیٹا بیس پر کام کرے گا جس میں اعضاء کی پیوند کاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید طریقوں پر کام کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں