فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد ناقابل برداشت ہے، جنگ رکنی چاہیے : فرانسیسی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے' کہ غزہ میں انسانی جانوں کا نقصان اور ہلاکتیں قابل برداشت نہیں ہیں ، اس لیے لازماً جنگ کو رکنا چاہیے۔ 'یہ بات صدر میکرون کے دفتر نے ان کی بدھ کے روز نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر جاری کیے گئے بیان میں کہی ہے۔

میکرون نے فون کال پر اب کی بار اپنا لہجہ سخت کیا اور رفح شہر پر اسرائیلی حملے کے بارے میں بھی اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔اس بارے میں ان کا کہنا تھا ' رفح پر حملہ بھی ایک بڑی سطح کی انسانی تباہی کا سبب بنے گا۔خطے میں کشیدگی کو نئی طاقت دے گا اور علاقائی امن کے لیے خطرہ بنے گا۔'

واضح رہے اسرائیلی کی غزہ میں جنگ شروع کیے جانے کے بعد امریکہ و برطانیہ کے فوری بعد جس ملک نے اسرائیل کے بے مثال اتحادی کے طور پر اس کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ لیکن اب اس فرانس میں بھی قدرے انحراف کی سوچ ہے۔

فرانسیسی صدر نے کہا ' جنگ بندی کا معاہدہ ممکن بنانا چاہیے اور اب اس میں مزید تاخیر نہیں کی جانا چاہیے۔' کیونکہ ایسی ڈیل ہی تمام شہریوں کے لیے تحفظ کا باعث بن سکتی ہے اور متاثرہ شہریوں کو وسیع پیمانے پر اشیاء کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔'

میکرون نے یہ بھی کہا ' ایک بڑی آبادی کو انتہائی محدود اشیائے ضروریہ کی فراہمی بھی کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اشدود کی راہداری کو بھی غزہ کے لیے کھولنے کی بات کی۔

نیتن یاہو سے بات کرتے ہوئے صدر میکرون نے مزید کہا ' وزیر اعظم سمیت تمام اسرائیلی رہنماؤں میں یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کو ایک پر امن مستقبل دینے کے لیے اقدامات کریں، اس مقصد کے لیے مسئلے کا دوریاستی حل لازمی ہے۔اسی کے نتیجے میں ایک فلسطینی ریاست قائم ہو سکے گیی اور اسرائیلی بھی محوظ رہیں گے۔'

خیال رہے فرنس کے صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان فون پر یہ تبادلہ خیال منگل کے روز ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد ہوا ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ فرانس 28 انتہا پسند یہودیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ یہ انتہا پسند یہودی مغربی کنارے میں متشدد یہودی آباد کاروں کی صورت میں موجود ہیں ۔ جو فلسطینیوں پر حملوں میں میں ملوث رہے ہیں۔

مغربی کناے میں یہودی آباد کاروں کی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں تاہم سات اکتوبر کے بعد ان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور 380 سے زائد فلسطینی شہری صرف مغربی کنارے میں قتل کیے گئے ہیں۔ جبکہ غزہ میں مجموعی طور پر سات اکتوبر کے بعد سے 28576 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں