نیتن یاہو غزہ میں جنگ اپنا اقتدار بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں : ریاض المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو محض اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے غزہ میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ بات فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیر اعظم کی جنگی پالیسی کے بارے میں کہی ہے۔

وہ یہ بات ایسے حالات میں کر رہے تھے جب غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور مسلسل بمباری کے نتیجے میں 28576 فلسطینی شہری قتل کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیل فوج کے ہاتھوں قتل کیے گئے ان فلسطینیوں میں بہت بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہے۔

اب اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی فوج کو رفح کے شہر میں بے گھر ہو کر پہنچنے والے فلسطینیوں کے وہاں سے بھی انخلاء کے لیے منصوبہ بنانے کا کہہ دیا ہے۔ جس سے عالم انسانیت کو تشویش ہے کہ ایک اور جنگی یلغار فلسطینیوں کی بہت بڑی تباہی کا باعث بننے جارہی ہے۔ کہ رفح میں 14 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ یہی اب نشانے پر ہوں گے۔ ریاض المالکی نے بھی اس بارے میں اظہار تشویش کیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ نے قبرص کے وزیر خارجہ کانسٹانٹینوس کومباس کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ' افسوسناک بات ہے کہ نیتن یاہو صرف اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے جنگ کر رہا ہے اور لاکھوں معصوم شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی جانوں کی بھی پروا نہیں کی جارہی۔'

واضح رہے قبرص مشرق وسطیٰ سے جڑا سب سے قریبی یورپی ملک ہے ۔ قبرص کی طرف سے جنگ زدہ فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل کے لیے محفوظ بحری راستے کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کی اور کہا ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل بڑھانے کی ضرورت ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ کے ان خیالات کے بارے میں نیتن یاہو کے دفتر یا اسرائیل کی طرف سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں