دونوں میں کشیدگی کے بعد بائیڈن کا نیتن یاہو سےقیدیوں کے معاہدے پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ پر جنگ کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ اور قیدیوں کے حوالے سے حماس کے ساتھ معاہدے کے التواء کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک ہفتے میں دوسری بار اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے فون پر بات کی۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ فون پر تبادلہ خیال اور غزہ کی پٹی پر جنگ کے بارے میں بات چیت کی۔

40 منٹ کی فون پر بات چیت کے دوران نیتن یاہو اور بائیڈن نے اسرائیل کے رفح پر حملے کے منصوبے اور غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کو بڑھانے کے امریکی مطالبے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

یروشلم پوسٹ اخبار کی کل جمعرات کو رپورٹ کے مطابق یہ کال نیتن یاہو اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کے درمیان اسرائیل میں ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔

رفح کی صورتحال

’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے نیتن یاہو کے دفتر کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ کال کے دوران قیدیوں کے معاملے، رفح کی صورتحال اور حماس کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

رفح کا ایک منظر
رفح کا ایک منظر

بائیڈن نے اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم کو ایک کال میں جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں فوجی آپریشن کرنے سے پہلے بے گھر ہونے والوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابل اعتماد اور "قابل عمل" پلان کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

فوری اقدامات

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ بائیڈن اور نیتن یاہو نے فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد کے حجم کو بڑھانے کی خاطر فوری اقدامات پر زور دیا۔

بائیڈن نے غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

رفح پر اسرائیلی بمباری کے بعد کا منظر
رفح پر اسرائیلی بمباری کے بعد کا منظر

العربیہ/الحدث ذرائع نے جمعرات بتایا کہ ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ایک خفیہ پیغام بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ رمضان سے قبل غزہ میں قیدیوں کے حوالے سے معاہدہ نہ ہوا تو بائیڈن انتظامیہ کے یکطرفہ اقدامات پرمجبور ہوگی۔

حماس نے اسرائیلی پیشکش مسترد کر دی

ذرائع نےکہا ہے کہ حماس نے اسرائیل کی طرف سے حراست میں لیے گئے تمام قیدیوں کے بدلے 1500 قیدیوں کی رہائی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حماس نے تین ماہ کی جنگ بندی اور غزہ سے اپنے رہ نماؤں کے انخلاء کی اسرائیلی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

قابل ذکر ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا آخری معاہدہ گذشتہ نومبر کے اواخر میں ہوا تھا جس کے بعد 7 اکتوبر کو حماس کے زیر حراست 105 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ان کے بدلے تقریباً 300 فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی تھی۔

جبکہ 130 اسرائیلی قیدی غزہ میں موجود ہیں جن میں سے 29 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں