غزہ سرحد پر مصری فوج کی تصاویر کی حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری سرحد سے ملحقہ شہر رفح پر اسرائیلی حملے کا خدشہ بڑھنے کے بعد، درجنوں ایسی تصاویر سامنے آرہی ہیں جن میں مصری سرحد پر فوجی تنصیبات اور ہجوم دکھائی دے رہا ہے۔

رفح میں اس وقت 1.4 ملین بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ان مناظر کو شائع کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ مصری کمک غزہ کی پٹی کی جانب سرحد کی طرف بڑھ رہی ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

اگرچہ کچھ عرب اور مغربی ذرائع ابلاغ پچھلے دنوں مصری فوج کی اضافی دستوں کے بارے میں بات کر چکے ہیں، تاہم یہ تمام تصویریں پرانی ہیں اور گذشتہ چند گھنٹوں کی صورتحال نہیں دکھاتی ہیں۔

پہلی تصویر، جس میں بکتر بند جہازوں کو دکھایا گیا ہے، ایسوسی ایٹڈ پریس نے 2012 میں شائع کی تھی، اور اسی سال 9 اگست کو العریش کے علاقے میں لی گئی تھی۔

جبکہ دوسری تصویر گذشتہ اکتوبر میں شائع کی گئی تھی جس میں اے ایف پی کے مطابق، غزہ کے ساتھ مصری سرحد کے قریب مصری فوج کی بکتر بند گاڑیاں دکھائی گئی تھیں۔

ایک تصویر، جس میں رن وے پر جنگی طیارہ دکھایا گیا ہے، اسے ایک فوٹو جرنلسٹ کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا، جس کا کہنا تھا کہ اس کی تصویر مصر میں 15 جنوری 2020 کو لی گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ بے گھر افراد سے بھرے رفح پر اسرائیل کی جانب سے حملے کی دھمکی نے گذشتہ چند دنوں سے بین الاقوامی اور عرب دنیا کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر مصر میں، جس نے 7 اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے محصور پٹی سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی پر بارہا خبردار کیا ہے۔

کل جمعرات کو شمالی سینائی کے گورنر محمد عبدالفضیل شوشہ نے صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ "مصر کا موقف واضح اور صاف ہے اور اس کا اعلان سیاسی قیادت نے غزہ پر اسرائیلی جنگ کے فوراً بعد کیا تھا، وہ یہ کہ " غزہ کے لوگوں کو مستقل طور پر مصر جانے کی اجازت نہیں دینا ہے۔"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر اسرائیل فلسطینی سرحدی گورنری میں فوجی کارروائی کرتا ہے تو مصر تمام حالات کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں