فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے خان یونس کے الناصر ہسپتال میں آکسیجن ختم ہونے سے چار مریض دم توڑ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا کہ جنگ زدہ فلسطینی علاقے کے چند فعال ہسپتالوں میں سے ایک میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے چار مریض جمعہ کو ہلاک ہوگئے جہاں اسرائیلی افواج نے چھاپہ مارا تھا۔

وزارت نے کہا، "کمپلیکس کے جنریٹر بند ہو گئے اور بجلی منقطع ہو گئی،" جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ جنوبی شہر خان یونس کے الناصر ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں چھ دیگر مریضوں اور نرسری میں تین بچوں کی قسمت کیا ہو گی۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا، "ہم اسرائیلی قبضے کو مریضوں اور عملے کی زندگیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کیونکہ کمپلیکس اب مکمل ان کے کنٹرول میں ہے۔"

اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر فوج نے کہا وہ ہسپتال میں ہلاکتوں کی رپورٹ کی جانچ کر رہی ہے۔

ایک عینی شاہد جس نے حفاظت کے خوف سے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا، نے کہا کہ فوج کے سنائپرز نے "ہسپتال کے اندر جانے والے ہر شخص پر" گولی چلائی اور "اس کے آس پاس موجود فوجی گاڑیوں" نے بھی فائرنگ کی۔

جمعرات کو وزارت نے کہا کہ مریضوں اور طبی عملے سمیت سینکڑوں لوگ بدستور ہسپتال کے احاطے میں موجود تھے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو کہا کہ اس نے "معتبر انٹیلی جنس معلومات" موصول ہونے کے بعد ہسپتال میں ایک "صحیح اور بہدف" آپریشن شروع کیا۔ ان معلومات کے مطابق یرغمالیوں کو اندر رکھا گیا ہے اور یرغمالیوں کی لاشیں اس سہولت میں ہو سکتی ہیں۔

لیکن بعد میں جمعرات کو فوج نے کہا کہ اسے "تاحال اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا" اگرچہ افواج کو ہسپتال کے احاطے میں "ہتھیار، دستی بم اور مارٹر بم" ملے تھے۔

جنگ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کئی ہفتوں سےکمپلیکس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

طبی خیراتی ادارے ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے جمعرات کو کہا کہ ہسپتال پر گولہ باری سے عملہ مریضوں کو چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں