فلسطین اسرائیل تنازع

ناصر ہسپتال میں ہمارے قیدیوں کی لاشیں ہیں، ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ اسرائیلی خصوصی دستے جنوبی غزہ کے خان یونس شہر میں واقع ناصر ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں جہاں انہوں نے سیکڑوں افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ان میں ہسپتال کے طبی عملے کے ارکان اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اس حوالے سے اسرائیلی فوج نے بھی کچھ انکشافات کیے ہیں۔

قیدیوں کی لاشوں کی موجودگی

اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ خصوصی دستے ناصر ہسپتال کے اندر پہلے سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے پاس ان قیدیوں کی لاشوں کی موجودگی کے بارے میں "قابل اعتماد معلومات" ہیں جنہیں 7 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ قیدی غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوگئے تھے جنہیں حماس کے جنگجو وہاں لے آئے تھے۔

انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "ہمارے قیدیوں کی لاشیں ہسپتال میں موجود ہو سکتی ہیں۔ ہمارے پاس قابل اعتماد معلومات ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ اسپیشل فورسز ٹھیک ٹھیک ریسکیو آپریشن کر رہی ہیں جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، کیونکہ نجی انٹیلی جنس معلومات قیدیوں کی لاشوں کے امکان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب غزہ میں حماس کی وزارت صحت نے گذشتہ بدھ کو اس بات کی تصدیق کی کہ تمام بے گھر افراد نے اسرائیلی فوج کے جاری کردہ احکامات کی بنیاد پر ناصر ہسپتال کو خالی کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس پر دھاوا بول کر اسے فوجی بیرک میں تبدیل کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان دانیال ہاگاری نے تصدیق کی تھی کہ ان کی افواج ناصر ہسپتال کے اندر ایک درست اور محدود آپریشن کر رہی ہیں۔

جبکہ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے الناصر میڈیکل کمپلیکس پر دھاوا بول دیا اور جنوبی دیوار کو گرانے اور اس میں سے داخل ہونے کے بعد اسے فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا۔

القدرہ نے کہا کہ اسرائیلی فوجی بلڈوزر ان اجتماعی قبروں اکھاڑ رہے ہیں جو کمپلیکس کی دیواروں کے اندر کھودی گئی تھیں۔

ہسپتال میں منگل کو فلمائے گئے ایک ویڈیو کلپ میں اس کے گرد دھوئیں کے بادل، ایک اسرائیلی بلڈوزر ہسپتال کے چاروں طرف کی دیوار کو تباہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک بکتر بند گاڑی ہسپتال کے میدان میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہےاور ہر طرف گولیوں کی آواز سنی جا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں