اسرائیلی چھاپے کے بعد غزہ کے اہم ہسپتال کے لیے خدشات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ہفتے کے روز غزہ کے ایک اہم ہسپتال میں اسرائیلی فوجیوں کے حملے کے بعد وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے خدشات بڑھ گئے اور حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارت صحت نے کہا کہ وہاں آکسیجن کی کمی سے کئی مریض جاں بحق ہو گئے ہیں۔

وزارت نے جمعہ کو تادیر کہا کہ غزہ کے مرکزی جنوبی شہر خان یونس کے نصر ہسپتال میں کم از کم 120 مریض اور پانچ طبی ٹیمیں پانی، خوراک اور بجلی کے بغیر پھنسی ہوئی تھیں۔

اسرائیل-حماس تنازعہ کے درمیان 15 فروری 2024 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں فلسطینی مریض اسرائیل کے زمینی آپریشن کی وجہ سے خان یونس کے النصر ہسپتال سے انخلاء کے بعد رفح پہنچ کر آرام کر رہے ہیں۔
اسرائیل-حماس تنازعہ کے درمیان 15 فروری 2024 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں فلسطینی مریض اسرائیل کے زمینی آپریشن کی وجہ سے خان یونس کے النصر ہسپتال سے انخلاء کے بعد رفح پہنچ کر آرام کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ہسپتال کے اردگرد شدید لڑائی چھڑ گئی ہے ۔ یہ فلسطینی علاقے کی آخری باقی ماندہ بڑی طبی سہولیات میں سے ایک ہے جو ابھی تک کام کر رہی ہے۔

فوج نے کہا کہ "معتبر انٹیلی جنس معلومات" تھیں کہ حماس کے سات اکتوبر کے بے مثال حملے کے یرغمالیوں کو وہاں رکھا گیا تھا اور یہ کہ کچھ کی لاشیں اب بھی اندر موجود ہو سکتی تھیں، اس پر عمل کرتے ہوئے جمعرات کو فوجی ہسپتال میں داخل ہو گئے۔

فوج کہتی ہے کہ اس نے 20 افراد کو گرفتار کیا تھا، ہتھیار قبضے میں لیے اور ہسپتال سے "اسرائیلی یرغمالیوں کے ناموں والی دوائیں" برآمد کیں۔

ایک عینی شاہد جس نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا، اس نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی افواج نے "ہسپتال کے اندر جانے والے ہر شخص پر" گولی چلائی۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے یہ بھی کہا کہ چھاپے کے بعد بجلی منقطع اور جنریٹر بند ہوگئے جس کے نتیجے میں پانچ مریض ہلاک ہوگئے۔

اس نے کہا کہ اس نے اسرائیل کو "ذمہ دار قرار دیا... اس بنا پر کہ کمپلیکس اب اس کے مکمل کنٹرول میں ہے"۔

اسرائیلی فوج کا اصرار تھا کہ اس نے ہسپتال کو بجلی فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اس نے کہا، "فوجیوں نے جنریٹر کی مرمت کے لیے کام کیا جبکہ... خصوصی دستے متبادل جنریٹر لائے۔"

لیکن عالمی ادارۂ صحت نے جمعہ کے روز اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی اور ترجمان طارق جساریوچ نے صحافیوں کو بتایا کہ "ہسپتال میں مزید انہدام کا مطلب ہے مزید جانوں کا ضیاع"۔

"مریض، صحت کے کارکنان اور شہری جو ہسپتالوں میں پناہ لے رہے ہیں وہ ان شفا یابی کی جگہوں پر حفاظت کے مستحق ہیں نہ کہ تدفین کے۔"

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا کہ اس کے ڈاکٹروں کو بھاگنے اور مریضوں کو پیچھے چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا گیا جس میں ایک ملازم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں تھا اور زندہ تھا یا نہیں اور دوسرے کو اسرائیلی افواج نے حراست میں لے لیا تھا۔

اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حماس کے پاس تقریباً 130 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں جبکہ دیگر درجنوں کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے نومبر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران رہا کر دیا گیا تھا۔

حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ جنگ میں اب تک کم از کم 28,775 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اسرائیل بارہا حماس پر ہسپتالوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے جس کی حماس نے تردید کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ النصر ہسپتال پر اسرائیل کا حملہ "اسرائیلی افواج کی طرف سے غزہ میں زندگی بچانے والے شہری بنیادی ڈھانچے خاص طور پر ہسپتالوں پر حملوں کے نمونے کا حصہ" ظاہر ہوتا ہے۔

تقریباً 1.4 ملین بے گھر شہری مصری سرحد کے قریب ایک عارضی کیمپ میں پناہ لینے کے بعد رفح قصبے میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں رسد کی کمی ہے۔

ایک بے گھر فلسطینی محمد یاغی نے کہا، "وہ ہمیں آہستہ آہستہ مار رہے ہیں۔"

"ہم وسائل کی کمیابی اور ادویات اور علاج کی قلت کی وجہ سے آہستہ آہستہ مر رہے ہیں۔"

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو تادیر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ شہریوں کو محفوظ رکھنے کے منصوبے کے بغیر رفح پر حملہ نہ کریں۔

لیکن نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ وہ حماس پر "مکمل فتح" حاصل کرنے کے لیے رفح میں ایک "طاقتور" آپریشن کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے جمعے کو کہا کہ اسرائیل اپنا آپریشن شروع کرنے سے پہلے مصر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔

کاٹز نے میونخ میں نامہ نگاروں کو بتایا، "مصر ہمارا اتحادی ہے، ہمارے مصر کے ساتھ امن معاہدات ہیں اور ہم اس طریقے سے کام کریں گے جس سے مصری مفادات کو نقصان نہ پہنچے"۔

بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ بقیہ یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کے لیے غزہ میں نئی جنگ بندی کی ضرورت کے بارے میں بھی "وسیع" گفتگو کی ہے۔

"میں اس کے بارے میں بہت شدت سے محسوس کرتا ہوں -- کہ قیدیوں کو باہر نکالنے کے لیے، یرغمالیوں کو باہر نکالنے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی ہونی چاہیے۔"

حماس کے مسلح ونگ نے کہا غزہ میں یرغمالی "زندہ رہنے کی جدوجہد" کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیل کی مسلسل بمباری کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو مصری حکام اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا مصر غزہ سے بے گھر ہونے والے کسی بھی فلسطینی کو رہنے کے لیے سرحد کے قریب ایک چار دیواری کیمپ بنا رہا ہے۔

مصر نے بارہا غزہ سے کسی بھی "زبردستی نقلِ مکانی" کی مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے اسرائیل کے ساتھ 1979 کا امن معاہدے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نے کہا کہ پناہ گزینوں کا کسی بھی بڑے پیمانے پر اخراج مصر اور فلسطینیوں دونوں کے لیے "تباہ کن" ہو گا۔

گرانڈی نے بی بی سی کو بتایا، "کسی بھی چیز سے زیادہ اہم یہ ہے کہ مہاجرین کا مزید بحران مستقبل کے امن عمل کے تابوت میں کیل ثابت ہو گا۔"

غزہ کے شمال میں تقریباً 25 کلومیٹر (15 میل) کے فاصلے پر جنوبی اسرائیل کے قصبے کریات ملاخی میں جمعہ کے روز ایک مسلح شخص نے ایک پرہجوم بس اسٹاپ پر دو افراد کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔

نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ پورا ملک ایک ہراول بن گیا ہے اور کہا کہ "قاتل ہم سب کو مارنا چاہتے ہیں جو صرف غزہ سے نہیں آتے"۔

جنگ اب اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے تو پورے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

حماس کی اتحادی حزب اللہ اور اس کے سخت دشمن اسرائیل سات اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے سرحد پار سے تقریباً روزانہ فائرنگ کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ تحریک کے رہنما حسن نصر اللہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل لبنان میں ہلاک شدہ شہریوں کی جانوں کی قیمت "خون کے ساتھ" ادا کرے گا اور خبردار کیا کہ ان کے گروپ کے پاس ایسے میزائل ہیں جو اسرائیل میں کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں