اسرائیل فلسطینی پناہ گزینوں کےلیےاقوامِ متحدہ کی ایجنسی کوتباہ کرنے پرآمادہ ہے:اونروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے (اونروا) کے سربراہ نے ہفتے کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل ایک مشترکہ طور پر طے شدہ مہم چلا رہا ہے جس کا مقصد اونروا کو تباہ کرنا ہے۔

فلپ لازارینی نے کہا کہ ان سے استعفے کے مطالبات اسرائیلی حکومت کے دباؤ کا حصہ ہیں۔

انہوں نے سوئس اخبار گروپ ٹیمیڈیا کو بتایا، "ابھی ہم اسرائیل کی جانب سے ایک وسیع، طے شدہ مہم سے نمٹ رہے ہیں جس کا مقصد اونروا کو تباہ کرنا ہے۔"

"یہ ایک طویل مدتی سیاسی مقصد ہے کیونکہ یہ خیال ہے کہ اگر امدادی ایجنسی ختم ہو جائے تو فلسطینی پناہ گزینوں کی حیثیت کا معاملہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا -- اور اس کے ساتھ واپسی کا حق بھی۔ اس کے پیچھے بہت بڑا سیاسی مقصد ہے۔"

انہوں نے کہا، "ذرا دیکھئے کہ اسرائیل اس کے خلاف کتنی کارروائیاں کر رہا ہے" جو غزہ کی پٹی میں مرکزی امدادی ادارہ ہے۔

انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے اقدامات، ایجنسی کے وی اے ٹی سے استثنیٰ کو ختم کرنے کے اقدامات اور اسرائیل کی اشدود کی بندرگاہ پر ٹھیکیداروں کو اونروا کے لیے "کھانے کی مخصوص ترسیل کو روکنے" کے احکامات کا حوالہ دیا۔

"اور یہ تمام مطالبات حکومت کی طرف سے ہیں۔"

مزید برآں لازارینی کہتے ہیں کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اونروا کی 150 سے زائد تنصیبات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اونروا کے خالی کردہ غزہ سٹی ہیڈ کوارٹر کے نیچے سے ایک سرنگ دریافت ہوئی تھی، اس دعوے کے بعد اسرائیل نے لازارینی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لازارینی نے کہا کہ سرنگ زمین سے 20 میٹر نیچے تھی اور ایک انسانی تنظیم کے طور پر اونروا کے پاس یہ صلاحیت نہیں تھی کہ وہ غزہ میں زیرِ زمین چیزوں کا جائزہ لے سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے میں تنہا تھا اور "کوئی وجہ" نہیں کہ اقوامِ متحدہ کے کسی ایک رکن ملک کے ان کے جانے کے مطالبے پر عمل کیا جائے "خاص طور پر چونکہ میرے استعفیٰ سے صورتِ حال بہتر نہیں ہوگی۔"

انہوں نے کہا، "تنقید کا تعلق ذاتی طور پر مجھ سے نہیں بلکہ پوری تنظیم سے ہے۔ استعفیٰ کے مطالبات اونروا کی تباہی کی مہم کا حصہ ہیں۔"

غزہ جنگ حماس کے سات اکتوبر کے حملے سے شروع ہوئی جس کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس نے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بھی بنایا جن میں سے تقریباً 130 اب بھی غزہ میں موجود ہیں اور اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق خدشہ ہے کہ ان میں سے 30 ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں