اسرائیل کا خان یونس کے سب سے بڑے ہسپتال سے100 فلسطینی جنگجوؤں کی گرفتاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہرخان یونس کے سب سے بڑے ہسپتال کا ابھی تک سخت محاصرہ جاری رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس میڈیکل کمپلیکس کے اندر سے 100 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا جہاں بڑی تعداد میں زخمی اور بےگھر فلسطینی موجود ہیں۔

اسرائیلی فوج نے آج ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ فورسز خان یونس میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک 100 افراد کو "ناصر ہسپتال میں دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے شبہ میں" گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ان کی افواج ہسپتال کے اندرحماس کے خلاف ایک "محدود اور ٹارگٹڈ" آپریشن کر رہی ہیں۔ یہ آپریشن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہسپتال کے آس پاس متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔

زخمیوں کا اخراج

کل جمعرات کو غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے اطلاع دی کہ اسرائیل نے ناصر ہسپتال سے ایندھن داخل کرنے یا زخمیوں کو نکالنے کی تمام بین الاقوامی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 95 طبی عملہ، 186 مریض اور 165 بے گھرلوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ ناصر میڈیکل کمپلیکس جو 24 دنوں سے محاصرے میں ہے اسرائیلی فوجی بیرک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کسی بھی قسم کی طبی امداد اور دیگر سامان اندر لے جانے سے روک دیا گیا ہے۔

یہ میڈیکل کمپلیکس جنوبی غزہ کی پٹی میں صحت کی خدمات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس نے نہ صرف خان یونس بلکہ پورے جنوبی علاقے کےلوگوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہیں۔

دریں اثنا خان یونس کے مغربی علاقوں میں تین لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہری اب طبی خدمات سے محروم ہیں۔ خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس اور الامل ہسپتال کا کام رک گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں