امدادی ٹرکوں کی محافظ فلسطینی پولیس پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا: امریکی مندوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کے ایک اعلیٰ سفارت کار سیٹر فیلڈ ڈیوڈ نے جو غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل سے متعلق ہیں اسرائیل پولیس کی طرف سے فلسطینی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا معاملہ اٹھایا ہے۔

سفارت کار کے مطابق یہ فلسطینی پولیس اہلکار اقوام متحدہ کے امدادی قافلے کو تحفظ دینے کے لیے اس قافلے کے ساتھ فرائض انجام دے رہے تھے کہ ان پر اسرائیلی فوج نے حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ غزہ کے جنوبی شہر رفح میں پیش آیا۔

اس واقعے کے بعد فلسطینی پولیس نے امدادی قافلوں کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ امدادی قافلوں کو فلسطینی متاثرین تک امداد پہنچنے سے پہلے خطرہ ہوتا ہے کہ راستے میں کوئی گینگ اس امداد پر ہلہ بول کر چھین نہ لے۔

امریکی سفارت کار سیٹر فیلڈ نے واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران بتایا ہے کہ فلسطینی پولیس کا اسکواڈ اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں یا دیگر امدادی سامان لانے والے قافلوں کے ساتھ ضروری ہوتا ہے تاکہ راستے میں کوئی ناخواشگوار واقعہ نہ پیش آسکے۔ اس لیے پولیس کی مدد لینا ضروری ہوتا ہے۔

امریکی نمائندے نے کہا بلا شبہ پولیس میں حماس کے ارکان بھی شامل ہو سکتے ہیں لیکن ایسے پولیس اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں جن کا کسی سیاسی گروپ سے تعلق نہ ہو۔ ایسے افسران سے کام لیا جانا چاہیے۔

واضح رہے غزہ کے چابیس لاکھ شہریوں میں سے تقریبا 23 لاکھ فلسطینی اسرائیل کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ تاہم اب بھی اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور اب رفح شہر جہاں 13 لاکھ سے زائد بے گھر فلسطینی جمع ہیں ان کو بمباری کی زد میں لینے کی تیاری ہے۔

اس صورت حال میں نہ صرف یہ یہ سب بے گھر فلسطینی چھت سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ خوراک اور پانی ایسی بنیادی اشیائے کوردو نوش سے بھی محروم ہین۔ پانی بجلی اور ادویات تک میسر نہیں ہیں۔ ہسپتال بند یا تباہ ہو چکے ہیں اگر کوئی جزوی طور پر سہولت فراہم کرنے کی پوزیشن میں رہ گیا ہے تو اس کے پاس ادویات اور طبہی آلات موجود نہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج کے پسپتالوں پر حملے ہوجاتے ہیں۔

ایک مکمل انسانی تباہی کا سماں ہے اسیے میں اسرائیلی فوج امدادی سامان لانےوالے قافلوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں تو دوسری جانب جن اکا دکا قافلوں کو اجازت دیتے ہیں ان کی حفاظت کا فلسطینی پولیس کو اہتمام کرے تو پولیس پر بمباری کر دی جاتی ہے۔

تاہم اسرائیل ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اگرچہ بین الالقوامی مڈیا کے نمائندوں نے ان واقعات کی تصدیق کی تھی۔ سیٹر فیلٖڈ سے جب تقریب میں پوچھا گیا کہ ایا رفح میں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس میں پولیس اہلکار ہلاک کر دیے گئے تو ان کا کہنا تھا 'کہ دس روز قبل اسرائیلی فوج نے یا دو ہفتے پہلے 7 سے 9 پولیس ایلکاروں کو ان کے کمانڈر سمیت نشانہ بنایا تھایہ سب ایک امدادی قافلے کو تحفظ دینے کے لیے تعینات تھے۔'

امریکی نمائندے کا کہنا تھا ان امدادی قافلوں کو اس لیے تعینات کرنا ضروری تھا کہ مویوس فلسطینی یا پھر جرائم پیشہ عناصر امدادی قافلوں سے امدادی سامان لوٹ سکتے تھے۔ ان کا مزید کہا تھا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لیے کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ حماس نے امدادی سامان چوری کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس الزام کے لگانے والوں نے جو بائیڈن کو ایسے ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں جن سے یہ الزام ثابت ہو سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں