خطے میں کشیدگی ، ایران نئے میزائل اور فضائی دفاعی سسٹم سامنے لے آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے اپنی اسلحہ سازی کی دوڑ میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے ہفتے کے روز نئے اسلحے کی رونمائی کی ہے۔ ایرانی کی سرکاریی نیوز ایجنسی ' ارنا ' کے مطابق اس نئے اضافے میں 'بیلسٹک میزائل شکن سسٹم' کے علاوہ کم اونچائی میں بروئے کار آنے والا ' ازرحش سسٹم' شامل ہے۔

بتایا گیا ہے کہ نئے اور جدید طیاروں کو یہ اضافہ خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔ تاکہ درپیش دفاعی چیلنجوں کو مقابلہ کیا جا سکے۔ واضح رہے بحیرہ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں اور یمن میں حوثی مراکز پر امریکہ برطانیہ کے بھر پور حملوں کے بعد جہاں مزاحمتی گروپوں کے لیے مسائل اور چیلنج کا خطرہ ہے وہیں ان کی حمایت کی وجہ سے ایران کے لیے بھی دفاعی چیلنج بڑھ رہے ہیں۔

ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے مراکز پر عراق اور شام میں بھی حملے ہو چکے ہیں ۔ جبکہ اسرائیل اور امریکہ کھلے لفظوں میں ان گروپوں کی کارروائیوں کے پیچھے ایران کو قرار دیتے ہیں۔ اس لیے مستقبل میں ایران کو اپنے ہاں بھی خطرات کا کھٹکا محسوس ہونے لگا ہے۔

اس پس منظر میں ایران کے وزیر دفاع بریگیڈئیر جنرل محمد رضا اشتیانی نے ان نئے جدی دفاعی نظاموں کو اپنے دفاع نظام کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ملک دفاعی نیٹ ورک میں ان نئے اضافوں سے ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو قوت ملے گی۔

'ارنا ' نے رپورت کیا ہے کہ ارمان میزائل 120 کلومیٹر سے 180 کلو میٹر تک کی رینج میں مار کر سکتا ہے۔ جبکہ ازرخش میزائل سسٹم 50 کلو میٹر تک ک رینج میں موثر ہو گا اور اپنے ہدف کو شناخت کرنے کے بعد نشانہ بنا سکے گا۔

یاد رہے پچھلے سال ماہ جون میں ایران نے 1400 کلو میٹر تک مار کرنے والا اپنا پہلے دور مار میزائل بنایا تھا اور اسے ہائپر سونک بیلسٹک الفتح میزائل کا نام دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں