سعودی عرب: جامنی رنگ کے جنگلی پھول نے صحرا کو گل گلزار بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ایک جنگلی پھول نے صحرائی علاقوں میں موجود موسم بہار سے قبل وسیع ریگستانوں کو گل گلزار بنا دیا۔

لیوینڈرکا پھول سعودی شہریوں کے لیے پسندیدہ پھول سمجھا جاتا ہے۔ جامنی رنگ کا یہ پھول صحرائی علاقوں بہ کثرت مقدار میں پایا جاتا ہے۔

یہ پھول اپنے جامنی رنگ کے ساتھ شمال مشلح مرکز، ام سدیرہ، محیر ام ھشیم، ابرق الامغر، مغربی ام الجماجم، شمالی ارطاویہ اور سعودی عرب کے وسطی علاقوں میں بہ کثرت پایا جاتا ہے۔

لیونڈر کے پھول کی قدر اس وقت آتی ہے جب اس کا رنگ سرکاری مہمانوں کے استقبال کے موقعے پر قالینوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیوینڈر کا پھول اور ایرس اور تلسی جیسے پھول قدرتی بنفشی رنگ پر مشتمل ہوتے ہیں۔

فوٹوگرافرعبداللہ البرغش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سےبات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے صحرا اپنے خوبصورت دن لیونڈر کی دیکھ بھال میں گزارتے ہیں اور میں لیونڈرپھول کا عاشق اور جن جگہوں ہریہ پایا جاتا ہوں اس کا دلدادہ ہوں۔

موسم بہار پہلے یہ پھول سعودی عرب کے صحراؤں اور ریگستانوں میں اپنا رنگ اور خوشبو بکھیرتا ہے۔ اس پھول کی نہ دولت صحرائی علاقے قدرتی فن پاروں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے شمالی علاقوں میں شمروکس، کرسنتھیمم اور لیونڈر کے پھول بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ سب اس کے رنگوں اور مختلف حالتوں میں بنفشی رنگ کی نقل کرتے ہیں۔ یہ پھول صحرائی فطرت کے رنگ بکھیرتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیونڈرکو کئی دوسرے ناموں سے جانا جاتا ہے جن میں الضرم، الفکس اور حوض فاطمہ جیسے شامل ہیں۔

البرغش نے کہا کہ سعودی عرب میں کسی کو اس منظر کی توقع نہیں تھی، جو بارش کی حالیہ لہروں کے بعد صحرائی علاقے میں تشکیل پایا تھا۔ کئی بنجر مقامات پر جنگلی لیوینڈر کے پودے بہت بڑی تعداد میں اگے تھے جو کہ جامنی رنگ کے باغات میں تبدیل ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں