غزہ میں جنگ، اسرائیلی حق دفاع بین الاقوامی قانون کے تابع ہے: چانسلر شولز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی کے چانسلر شولز نے کہا ہے کہ حماس کی جارحیت کے خلاف اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے مگر اسے بین الاقوامی قانون کی لازماً پابندی کرتے ہوئے یہ حق استعمال کرنا چاہیے۔ جرمن چانسلر نے اس امر کا اظہار میونخ میں منعقدہ سکیورٹی کانفرنس کے دوران ' العربیہ ' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

چانسلر شولز کا کہنا تھا ' ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ غزہ میں جنگ کا اغاز حماس کی طرف سے بڑا جارحانہ تھا۔جو حماس کے لوگوں نے سات اکتوبر کو جارحیت دکھائی اسے آپ کبھی بھی تصور نہیں کر سکتے۔ ان کی کارروائی انسانیت کے خلاف تھی۔ چانسلر شولز نے غزہ اور یوکرین کی جنگ کے موازنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی'۔ ان سے پوچھا گیا تھا یورپی دنیا یوکرین کا دفاع کر تے ہوئے روس کے خلاف کھڑی ہے مگر غزہ میں اسرائیلی مظالم کو مسلسل اجازت دیے ہوئے ہے؟

جرمنی کے قائد نے 'العربیہ ' کے ساتھ بات چیت کے دوران بنیادی طور پر تین اہم حقیقتوں پر روشنئی ڈالی ، جن میں سب سے پہلے انسانی بنیادوں پر غزہ کے لیے امداد ی کارروائیاں ، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور تیسرے نمبر پر مسئلہ فلسطین کا دوریاستی حل شامل تھا۔

چانسلر نے کہا ' ہم اس بارے میں بہت واضح ہیں کہ پہلے ترجیح اور ترتیب میں پہلے کونسی چیز ہونی چاہیے۔ سب سے پہلے انسانی بنیادوں پر امداد کی غزہ میں رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ جنگ کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہی جاری رکھا جاناچاہیے جبکہ تیسرے نمبر پر مسئلے کا پر امن حل ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پرامن تعلقات کی بنیاد ہے جو دوریاستی حل کی صورت ہی ہو سکتے ہیں۔ '

جب چانسلر سے غزہ کے لوگوں کے لیے پیگام دینے کے لیے کہا گیا تو ان کا کہنا تھا' وہ ہم پر بھروسہ کریں اور ایک خود مختار فلسطینی ریاست کی طرف بڑھیں۔ گفتگو میں انہوں نے روس یوکرین جنگ کے علاوہ یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے اور جرمنی کی معیشت کے بارے میں بھی بات چیت کی۔

روسی اپوزیشن لیڈر کی اچانک موت کے بارے میں انہوں نے کہا اس اچانک انتقال کا سن کر مجھے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے۔ امریکہ میں دوبارہ صدر ٹرمپ کی بطور صدر وائٹ ہاؤس آنے کے امکان کے بارے میں سوال پر کہا ' امریکہ اور یورپ کے درمیان برسوں سے تعلقات بہت اچھے ہیں۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا امریکہ میں کوئی بھی جیتے یا یوکرین کی جنگ کی کوئی بھی شکل ہو ہم اہل یورپ کو اپنا دفاع مضبوط کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں