متعدد اسرائیلی یرغمالی ہلاک ہو چکے، باقی بہت مشکلات میں ہیں: القسام بریگیڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ القسام نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ 'اس کی قید میں متعدد اسرائیلی یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں اور جو زندہ ہیں انتہائی مشکلات کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔'

واضح رعہے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں 1200 کے قریب اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے اور 240 کو یرغمالی بنالیا گیا تھا، ان یرغمالیوں میں سے 100 کے لگ بھگ کو ماہ نومبر کے آخری ہفتے کے دوران اس وقت رہائی مل گئی جب حماس کے ساتھ اسرائیلی معاہدے کے نتیجے میں ایک ہفتہ کے لیے وقفے وقفے سے جنگ بندی ممکن بنائی گئی۔ مگر بعد ازاں جنگ بندی نہیں ہو سکی اب بھی تقریباً ایک سو بتیس کے قریب اسرائیلی یرغممالی غزہ میں قید ہیں۔

غزہ میں کام کرنےوالی فلسطینی وزارت صحت کے تازہ جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 28775 فلسطینی غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہلاک کیے گئے ہیں۔ زخمیوں اور بے گھروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ تاہم اسرائیلی بمباری جاری ہے۔

القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے ' بہت سے یرغمالی ہلاک ہو چکے جبکہ باقی انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں ۔' ترجمان نے یہ انتباہ ایک آڈیو پیغام کے ذریعے کیا ہے۔

ابوعبیدہ نے مزیدکہا ' ہم پہلے بھی درجنوں بار خبردار کر چکے ہیں کہ یرغمالی خطرے میں ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ مشکل سے دوچار ہوں لیکن اسرائیلی قیادت اس معاملے کو نظر انداز کر رہی ہے اور ہماری بات پر دھیان نہیں دے رہی ہے۔ ہم نے کئی ماہ تک یرغمالیوں کی کی پوری حفاظت کی ہے اور خیال رکھا ہے۔ یہ ہم نے انسانی بنیادوں پر اپنا فرض سمجھتے ہوئے کیا ۔' ہم نے انہیں اپنے جائز حق اور اپنے اسیران کی رہائی کے لیے گرفتار کیا تھا۔'

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے کہا منگل کے روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ 31 یرغمالی غزہ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ان کی لاشیں ابھی غزہ میں حماس کے پاس ہیں۔'

اسی طرح اسرائیل یہ بھی دعویٰ رکھتا ہے کہ اس وقت 136 اسرائیلی یرغمالی غزہ میں قید ہیں۔ دوسری طرف فلسطینیوں کی گرفتاریوں پر نظر رکھنے والے ایک فورم کے مطابق سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج نے 7000 فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں