ایران کی ہدایت پرعراقی دھڑوں نے امریکی مفادات پر حملے کم کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ نے متعدد ایرانی اور عراقی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی کے بغداد کے دورے کے نتیجے میں عراق میں ایران کے اتحادی دھڑوں کی جانب سے امریکی افواج پر حملوں کو محدود دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ قاآنی نے 29 جنوری کو بغداد کے ہوائی اڈے پر متعدد مسلح دھڑوں کے نمائندوں سے ملاقات کی، جب واشنگٹن کی جانب سے اردن میں ٹاور 22 ملٹری سائٹ پر تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے پیچھے ان دھڑوں کا ہاتھ ہونے کا الزام لگانے کے 48 گھنٹوں سے کم وقت گذرا تھا۔

دس ذرائع نے بتایا کہ قاآنی نے دھڑوں کو آگاہ کیا کہ امریکی خون بہانے سے امریکی پرتشدد ردعمل کا خطرہ ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ قاآنی نے مسلح دھڑوں کو کہا کہ وہ اپنے سینیر رہ نماؤں پر امریکی حملوں سے بچنے، ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے، یا ایران کے خلاف براہ راست جوابی کارروائی سے بچنے کے لیے منظر سے دور رہیں۔

ایک دھڑے نے ابتدائی طور پر قاآنی کی درخواست پر اتفاق نہیں کیا، لیکن دوسرے دھڑوں میں سے اکثر نے ایسا ہی کیا۔ اگلے دن ایران سے منسلک کتائب حزب اللہ گروپ نے اپنے حملوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

4 فروری کے بعد سے عراق اور شام میں امریکی افواج پر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے جبکہ قاآ نی کے دورے سے پہلے دو ہفتوں میں فلسطینی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے جواب میں عراقی دھڑوں کی طرف 20 سے زیادہ حملے کیےگئے تھے۔

ایران کے ساتھ اتحادی عراقی مسلح دھڑوں میں سے ایک کے ایک سینیر رہ نما نے کہا کہ "قاآنی کی براہ راست مداخلت کے بغیر یہ ناممکن تھا کہ کتائب حزب اللہ کو کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے قائل کیا جائے"۔

عراقی میڈیا نے قاآنی کے دورے کے بارے میں خبر دی لیکن اس کے پیغام کی تفصیلات اور حملوں میں کمی پر اس کے اثرات اس سے پہلے کی رپورٹوں میں شامل نہیں تھے۔

رائیٹرز نے اس سلسلے میں تین ایرانی حکام، ایک اعلیٰ عراقی سکیورٹی اہلکار، تین عراقی سیاست دانوں، ایران کے ساتھ اتحادی عراقی مسلح دھڑوں کے چار ذرائع اور عراقی امور پر نظر رکھنے والے چار سفارت کاروں سے بات کی۔

قاآنی کے دورے کی بہ ظاہر کامیابی اس اثر کو نمایاں کرتی ہے جو ایران کو عراقی مسلح دھڑوں پر حاصل ہے۔ یہ دھڑے کبھی ایران کے پریشر گروپس کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ذرائع میں سے پانچ کا کہنا ہے کہ بغداد میں حکومت جو تہران اور واشنگٹن دونوں کی ایک نایاب مشترکہ اتحادی ہے، ملک کو ایک بار پھر بیرونی طاقتوں کے لیے میدان جنگ بننے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اردن میں حملے کے بعد دھڑوں پر لگام لگانے میں مدد کرے۔

عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی کے مشیر برائے امور خارجہ فرہاد علاء الدین نے ایک سوال کے جواب میں قاآنی کے دورے کی تصدیق اور مسلح دھڑوں کو روکنے میں مدد کی درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے رائٹرز کو بتایا کہ السودانی نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ اندرون ملک کام کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں