فلسطین اسرائیل تنازع

ایک اسرائیلی زخمی کو اٹھانے کی ویڈیو کو اسرائیل نے 'اونروا کے خلاف شئیر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ادارے 'اونروا' پر لگائے گئے الزام کے سلسلے میں ایک ویدیو فوٹیج شئیر کی ہے تاہم ' اونروا نے اس ویڈیو فوٹیج کی تصدیق کے نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے مستند ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ، نہ ہی اس شخص کی شناخت ہو رہی ہے کہ یہ واقعی 'اونروا کارکن ہے۔ البتہ اقوام متحدہ کے اعلی حکام نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو سات اکتوبر 2023 کی ہے جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے امدادی کارکن کو ایک گاڑی کے پچھلے حصے میں گولی لگے ایک اسرائیلی شخص کے جسم کو لادتے دکھایا گیا ہے اور حملے کے دوران جنوبی اسرائیل کے ایک گاؤں سے بھاگتے ہوئے دکھایا ہے۔

واضح رہے اسی ویڈیو کو پہلے واشنگٹن پوسٹ رپورٹ کر چکا ہے۔ اسے اسرائیلی حکام نے بھی آن لائن شیئر کی تھی۔' اونروا' کے اس مبینہ کارکن کی شناخت فیصل علی مسلم کے نام سے کی گئی تھی، تاہم ' اونروا' اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے کام کو صرف ریلیف تک محدود بتاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ' اونروا' کے ترجمان جوناتھنکا اس نے ویڈیو کے بارے میں کہنا ہے 'اس فوٹیج کی تصدیق کرنا اور یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہے کہ اس میں دکھایا گیا شخص کون ہے۔ نیز ہمیں اسرائیل کے حکامنے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔'

ترجمان کے مطابق 'اس کے باوجود اقوام متحدہ کے تفتیشی حکام کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہیں،' ترجمان کہا' ہم دعوت دیتے ہیں کہ کوئی بھی ملک یا ہمیں معلومات دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر بھی تحقیقات آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔'

اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے جمعہ کے روزمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے نئی ویڈیو کا حوالہ دیا اور کہا 'سات اکتوبر کے قتل عام میں ' اونروا' کے تیس سے زائد کارکنوں نے حصہ لیا نیز اسرائیلیوں کویرغمال بنانے میں مدد دی ۔' خیال رہے اس سے قبل اسرائیل ' اونروا' کے 12 کارکنوں پر یہ الزام لگاتا تھا، جبکہ غزہ میں ' اونروا' کے ملازمین کی کل تعداد 13000 ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں