تل ابیب میں ہزاروں افراد کا احتجاج، نیتن یاہو نے انتخابات کا مطالبہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز قبل از وقت انتخابات منعقد کروانے کا خیال مسترد کر دیا جبکہ ہزاروں اسرائیلی تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہرے کے لیے جمع ہوئے۔

غزہ میں تباہ کن جنگ کی وجہ بننے والے حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے رائے عامہ کے جائزوں میں نتن یاہو کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

حکومت مخالف مظاہرے جنہوں نے 2023 کے بیشتر عرصے تک ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جنگ کے دوران بڑی حد تک کم ہو چکے ہیں۔ پھر بھی مظاہرین ہفتے کی رات ایک بار پھر تل ابیب کی سڑکوں پر نکل آئے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جن کا طے کردہ وقت 2026 ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق گذشتہ برسوں کے بڑے مظاہروں کے مقابلے میں اس دفعہ مظاہرین کی تعداد چند ہزار ہی تھی۔

سر پر اسرائیلی پرچم لپیٹے ہوئے ایک مظاہر نے کہا، "میں حکومت سے کہنا چاہوں گا کہ آپ نے اپنا وقت لے لیا، آپ نے وہ سب کچھ برباد کر دیا جو آپ کر سکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ لوگ یہ تمام چیزیں درست کریں، تمام برے کام جو آپ نے کیے ہیں۔"

نیتن یاہو کی اپنی حکمران لیکود پارٹی کے اندر سے غزہ کی جنگ ختم ہونے پر فوری انتخابات کروانے کے مطالبات کیے گئے ہیں، ان کے بارے میں ایک پریس بریفنگ میں سوال کیا گیا۔

اس کے جواب میں انہوں نے کہا، "ہمیں اس وقت جس آخری چیز کی ضرورت ہے وہ انتخابات اور ان سے نمٹنا ہے کیونکہ یہ ہمیں فوری طور پر تقسیم کر دے گا۔ (اس کے برعکس) ہمیں ابھی اتحاد کی ضرورت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں