فلسطین اسرائیل تنازع

جب تک غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی کام میں اضافہ نہیں کیا جاتا مذاکرات نہیں کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی کے لیے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، جب تک غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ حماس کی طرف سے یہ انتباہ ہفتے کے روز جاری کیا گیا اور ہنگامی طور پر شمالی غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے کہا گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی ' کے مطابق یہ بات عسکری ونگ کے ایک سینئیر ذمہ دار کی طرف سے کہی گئی ہے۔ اس رہنما نے کہا ' اس وقت تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک فلسطینی لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ تاہم اس رہنما نے اپنا نام شائع نہ کرنے کا کہا کہ اسے میڈیا سے براہ راست بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آخری دور قاہرہ میں چند روز پہلے مکمل ہوا ۔لیکن یہ بے نتیجہ رہا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ اب پانچویں ماہ میں داخل ہے اور اس میں اب تک 29000 فلسطینی شہری جاں بحق جبکہ تقریباً ساری آبادی بے گھری کا شکار ہو چکی ہے۔

اب اسرائیلی فوج رفح پر جنگی یلغار کی تیاری کر رہی ہے۔ جہاں 14 لاکھ بے گھر فلسطینی نقل مکانی کر کے خمیوں میں انتہائی مشکل زندگی گذار رہے ہیں۔ لیکن ان کے پاس یہاں سے نکل کر جانے کی کوئی اور جگہ بھی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ' اوچا ' کا کہنا ہے کہ 300000 فلسطینی اب بھی شمالی غزہ میں کس طرح زندہ ہیں ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ ان کے لیے جو امداد کا کام کیا گیا ہے وہ کافی نہیں ہے۔ غزہ میں امدادی قافلوں کی تعداد بڑھانے اور رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ مسلسل کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں