فلسطین اسرائیل تنازع

رمضان کے قریب آتے ہی غرب اردن اور القدس میں کشیدگی کا خدشہ

امریکا ایک طرف امن کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو اسلحہ اور گولہ بارود بھیجتا ہے۔ اونروا کی امداد بند کرکے امریکا دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے: تجزیہ نگار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

رمضان کا مہینہ قریب آتے ہی غزہ کی پٹی کے علاوہ القدس اور غرب اردن کے فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کی ڈیل میں اور جنگ بندی میں ناکامی نے غرب اردن اور القدس میں رمضان کے مہینے میں کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ اسرائیل بھی اس وجہ سے تشویش میں ہے اور اسرائیلی حکومت پر شرائط کے ایک بڑے حصے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔

توقع ہے کہ آج اتوار کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے رمضان کے مہینے میں یروشلم اور مسجد اقصیٰ میں سکیورٹی سروسز کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے کے لیے شرائط ت طے کرنے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہونے کا امکان ہے۔ اس اجلاس میں اسرائیل کے متعدد سکیورٹی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ہفتے کی رات دیر گئے کہا کہ پولیس نے ایسے فلسطینیوں کی تعداد کو محدود کرنے کی سفارش کی ہے جو حرم قدسی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔اس سے پولیس، اسرائیلی فوج اور شین بیت کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے بغیر پابندی کےعبادت گذاروں کو جانے کی اجازت دینے پر اتفاق کرنے کی سفارش کی تھی۔

بات چیت کے دوران سکیورٹی حکام نے اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر ایسے فیصلے کریں گے جس سے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھے گی۔

بڑھنے کا خدشہ

براڈکاسٹن کارپوریشن کے مطابق سکیورٹی سروسز کے لیے مخمصہ یہ ہے کہ آیا رمضان کے مہینے میں مغربی کنارے کے لوگوں کو یروشلم میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور اسرائیلیوں کے خلاف حملوں کا خطرہ پیدا کیا جائے یا ان کے داخلے کو روکا جائے۔ اس طرح مظاہروں اور بدامنی کی توقع کی جائے۔ اس فیصلے کی وجہ سے اسرائیل کا خیال ہے کہ حماس تحریک دونوں علاقوں میں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔

اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ "رمضان کا مہینہ قریب آنے کی وجہ سے حماس مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں تاخیر کر رہی ہے اور اپنا موقف سخت کررہا ہےتاکہ رمضان کا مہینہ قریب آئے۔ اس طرح اسرائیل کا محاصرہ کر کے کئی خطرناک منظرنامے پیدا کیے جائیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت آج حرم قدسی میں داخلے کے معاملے پر بات کرے گی اور مغربی کنارے اور یروشلم میں حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پس منظر میں فیصلے کرنا ہوں گے۔

اسرائیلی حکومت کے وزراء نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر تنقید کی ہے جنہوں نے اب تک اس معاملے پرکوئی ٹھوس فیصلہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ وزراء کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے اس معاملے پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

وزراء نے یہ کہہ کر نیتن یاہو پر بھی تنقید کہ ایسا لگتا ہے کہ "بن گویر نے وزیر اعظم کو یرغمال بنا لیا ہے"۔

اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر

امریکی تشویش

’ٹائمز آف اسرائیل‘ کی رپورٹ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ یہ تناؤ وزیر بن گویر کی جانب سے رمضان کے مہینے میں حرم قدسی پر تناؤ بڑھانے کے امکان کے بارے میں امریکی تشویش کے موقعے پر سامنے آیا ہے۔ کیونکہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ یہ یروشلم کو مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں گھسیٹ لے گا اور امریکہ اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اشرف عکہ نے کہا کہ اگر امریکہ ایسا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور مغربی کنارے اور یروشلم میں معاملات کو پرسکون کر سکتا ہے۔

عکا نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب ہم سنتے ہیں کہ اسرائیل میں امریکی ہتھیاروں کی ایک نئی کھیپ پہنچ رہی ہے اور نیتن یاہو کی ان تمام تنقیدوں اور مشاہدات اوران کے رویے اور ان کی کوششوں کے ساتھ مل کر سنجیدہ مدد فراہم کی جا رہی ہے۔مگر دوسری طرف امریکا کو اس پر تشویش ہے کہ غرب اردن میں رمضان المبارک میں کیشدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

عکا نے وائٹ ہاؤس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے مطالبات اور اپیلوں کے دائرے سے نکل کر عملی اقدامات کے دائرے کی طرف بڑھے۔ وہ اس تمام تر کشیدگی کو روکنے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف نے بھی اس بات پر زور دیا کہ خطے میں آگ پر تیل ڈالنے والا امریکہ ہے۔

انہوں نے عالمی عرب عالمی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ فلسطینیوں کے خلاف براہ راست اپنی جنگ چھیڑ رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اسے پرسکون ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایک طرف وہ اپنی جنگ کے ذریعے فلسطینی پناہ گزینوں پرشکنجہ کس رہا ہے اور اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی UNRWA کی امداد روک رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ اسرائیل کو ہتھیار اور جنگی سازوسامان فراہم کرتا ہے۔ اور پھر یہ کہتا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے۔

ابو یوسف نے نشاندہی کی کہ امریکی اعلان کردہ موقف زمین پراس کے اقدامات سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔اگر وہ حالات کو پرسکون کرنا چاہتا تو امریکا حقیقی موقف اختیار کرتا جو عملی اقدامات میں بدل جاتا مگر امریکا دوغلی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں