فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کا دوسرا سب سے بڑا ہسپتال مکمل طور پر ’آؤٹ آف سروس‘ :وزارتِ صحت'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

تباہ شدہ فلسطینی انکلیو میں اسرائیل کی حماس کے مزاحمت کاروں سے جنگ جاری تھی تو مقامی اور اقوامِ متحدہ کے صحت کے حکام نے کہا کہ لڑائی، ایندھن کی قلت اور اسرائیلی چھاپوں کی وجہ سے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کا دوسرا بڑا ہسپتال مکمل طور پر بند ہو گیا۔

غزہ میں صحت کی نگہداشت کے تباہ شدہ شعبے کو تازہ ترین دھچکا اس وقت لگا جب اسرائیل جنوبی شہر رفح پر حملے کی تیاری کر رہا ہے جو اب دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ ہے- یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری بشمول اسرائیل کے حمایتی امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ بہت زیادہ انسانی مصیبت و ابتلا کا سبب بنے گا۔

اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے نے غزہ کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا ہے اور اس کے تقریباً تمام باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔ فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ 28,985 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

غزہ کے ہسپتال اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان چار ماہ سے جاری جنگ کا مرکزی نقطہ رہے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی شہر خان یونس میں الناصر ہسپتال اتوار کی صبح خدمات سے قاصر ہو گیا۔

صحت کے حکام نے بتایا کہ ہسپتال نے جنگ کے زخموں اور غزہ میں صحت کے بگڑتے ہوئے بحران سے دوچار مریضوں کو بدستور پناہ دی تھی لیکن ان سب کے علاج کے لیے کوئی بجلی اور کافی عملہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، "یہ مکمل طور پر خدمت سے قاصر ہو گیا ہے۔ صرف چار میڈیکل ٹیمیں اور 25 کا عملہ فی الحال سہولت کے اندر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔"

القدرہ نے کہا کہ ہسپتال کو پانی کی سپلائی رک گئی کیونکہ جنریٹر تین دن سے بند تھے، سیوریج کا پانی ایمرجنسی کمروں میں بھر گیا اور بقیہ عملے کے پاس انتہائی نگہداشت والے مریضوں کے علاج کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ آکسیجن کی فراہمی کی کمی کم از کم سات مریضوں کی موت کا سبب بنی۔ یہ بھی بجلی نہ ہونے کا نتیجہ تھا۔

غزہ تنازعے نے پورے شرقِ اوسط کو غیر مستحکم کر دیا ہے کیونکہ حماس کے فوجی اتحادیوں - ایران کے حمایت یافتہ تمام نیم فوجی گروپوں ۔ نے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے اسرائیل اور امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔

غزہ کے بیشتر ہسپتال لڑائی اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے خدمات کی فراہمی سے قاصر ہو گئے ہیں جس کی بنا پر 2.3 ملین کی آبادی صحت کی مناسب نگہداشت سے محروم ہے۔

اسرائیل نے طبی سہولیات پر چھاپہ مارا اور الزام لگایا ہے کہ حماس نے ہسپتالوں میں ہتھیار اور یرغمالی رکھے ہوئے ہے۔ حماس گنجان آباد غزہ میں کام کرتی ہے لیکن اس بات سے انکاری ہے کہ وہ ہسپتالوں کو کور کے لیے استعمال کرتی ہے۔

بین الاقوامی برادری کہتی ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ مقام قرار دیئے گئے ہسپتالوں کا تحفظ ضروری ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اس کے عملے کو ہسپتال تک رسائی دے جس کے بارے میں اس نے کہا کہ حماس کے مزاحمت کاروں کی تلاش میں اسرائیلی افواج کے ایک ہفتے کے محاصرے اور چھاپوں نے انہیں مریضوں کی مدد کرنے سے روک دیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "کل اور پرسوں دونوں دن ایندھن کی فراہمی کے لیے ہسپتال کے احاطے میں پہنچنے کے باوجود ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کو مریضوں کی حالت اور اہم طبی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے ہسپتال میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔"

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی خصوصی افواج الناصر ہسپتال اور اس کے ارد گرد کام کر رہی ہیں اور گذشتہ روز غزہ بھر میں لڑائی میں درجنوں فلسطینی مزاحمت کاروں کو ہلاک اور بھاری مقدار میں اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے۔

فوج نے کہا کہ اس ہفتے وہ الناصر میں مزاحمت کاروں کی تلاش کر رہی تھی اور اس نے احاطے سے کم از کم 100 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا، ہسپتال کے قریب مسلح افراد کو ہلاک کر دیا اور اس کے اندر سے ہتھیار برآمد کیے تھے۔

رفح میں حملوں میں بے گھر افراد ہلاک

غزہ پر اسرائیل کا حملہ شمال میں شروع ہوا اور فلسطینیوں کے فرار ہونے کے بعد جنوب کی طرف منتقل ہو گیا جن میں سے کئی جنوبی شہروں کے ارد گرد خیموں میں گھس گئے جن میں خان یونس اور غزہ-مصر کا سرحدی شہر رفح شامل ہیں جو واحد ایسی گذرگاہ ہے جو اسرائیل کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی کو رفح میں دھکیل دیا گیا ہے اور شہر پر حملہ کرنے کے اسرائیلی منصوبے بین الاقوامی تشویش کی وجہ بنے ہیں۔

مقامی رہائشیوں اور حماس کے میڈیا حکام نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے اتوار کو رفح کے دو علاقوں پر حملے کیے جن میں مصر کی سرحد کے قریب ایک خالی عمارت بھی شامل تھی۔

مقامی طبی ماہرین نے بتایا کہ دو میں سے دوسرا حملہ ایک کھلی جگہ پر ہوا جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

سات اکتوبر کے حملے کو روکنے میں حکومت کی ناکامی پر اور بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ کے تحت اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز فوجی مہم کو آگے بڑھانے کا عہد کیا۔

نیتن یاہو نے جنگ بندی پر مذاکرات کی بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ کوششوں کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ عرب اور مغربی ممالک اسرائیل-فلسطین تنازعہ کی بنیاد کے دیرپا حل پر زور دیتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ حل اسرائیل کے برابر میں مغربی کنارے اور غزہ میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔

اتوار کے روز ان کی کابینہ نے فلسطینی ریاست کی "یکطرفہ شناخت" کی مخالفت کا باقاعدہ اعلان کیا.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں