مغربی کنارے میں کشیدگی اسرائیلی وفلسطینی امن کی راہ میں رکاوٹ ہے : جوزپ بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے مغربی کنارے میں پیدا شدہ کشیدہ صورت حال اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان طویل مدتی امن اور تنازعے کے پائیدار حل میں بڑی رکاوٹ ہے، جوزپ بوریل نے اس امر کا اظہار اتوار کے روز میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا مسئلے کے حل اور دوریاستی حل کی راہ میں حال اصلی رکاوٹ مقبوضہ مغربی کنارا ہے، یہ علاقہ ایک اس طرح کی صورت حال سے دوچار ہے کہ اسے ایک بوائلر بھی کہا جاسکتا ہے جو پھٹنے کے قریب تر پہنچا ہوا ہے۔

واضح رہے مغربی کنارے میں 490000 یہودی آباد کار رہتے ہیں جن کے لیے اسرائیل نے ناجائز یہودی بستیاں قائم کر رکھی ہیں۔ یہ ناجائز یہودی بستیاں درجنوں کی تعداد میں ہیں۔ اسرائیل نے مغربی کنارے کے اس علاقے پر 1967میں قبضہ کیا تھا۔ مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی کی تعداد 30 لاکھ ہے۔

یورپی یونین کے سفارتی شعبے کے چیف نے کہا ' فلسطینی ان یہودی بستیوں کو ایک جنگی جرم سمجھتے ہیں۔ تاہم دوسرے ملکوں سے لے جا کر آباد کیے گئے ان یہودی آبادوں میں بڑی تعداد ایسے یہودیوں کی ہے جو اس علاقے میں اپنی رہائش کو اللہ کی طرف سے کیے گئے وعدے کی تعبیر سمجھتے ہیں۔

اس مغربی کنارے میں سات اکتوبر سے صورت حال زیادہ کشیدہ ہو چکی ہے، اب تک یہودی آباد کاروں اور فوجیوں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 300 کے قریب فلسطینی قتل کر دیے گئے ہیں۔

جوزپ بویل نے کہا ' ضرورت اس امر کی ہے کہ ' عرب انیشیٹو ' کی حمایت کی جائے اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوشش کی جائے۔'

یورپی یونین کے رہنما کے یہ ریمارکس اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی طرف سے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی سطح سے آنے والی حمایت کو ایک بار پھر رد کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں