فلسطین اسرائیل تنازع

یرغمالی رہا ہوں یا نہ ہوں ،غزہ کے جنوب میں رفح پر حملہ کرنا ہے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ 'یرغمالی رہا ہوں یا نہ ہوں اسرائیلی فوج غزہ کے جنوب میں داخل ہو کر رہے گی۔ 'انہوں نے اس امر کا اعلان ہفتے کے روز کیا ہے۔ نیتن یاہو نے رفح میں اسرائیلی فوج کی غیر معمولی جنگی یلغار نہ کرنے کا مشورہ دینے والوں اور اس جنگی منصوبے پر تنقید کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہ 'وہ لوگ چاہتے ہیں ہم غزہ کی جنگ ہار جائیں۔'

اسرائیلی وزیر اعظم جو اس وقت اسرائیل میں چھٹی بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کی قیادت میں اسرائیلی تاریخ کی طویل ترین جنگ غزہ میں جاری ہے۔ مسلسل پانچویں ماہ بھی عالمی سطح پر بد ترین مذمتوں کو برداشت کرنے، 29000 فلسطینیوں کو بمباری سے قتل کرنے اور 23 لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور اسرائیل معاشی حالت اور اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دینے کے باوجو دحماس کو شکست نہ دے سکنے پر سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ اس لیے اپنے یرغمالی شہریوں کی رہائی اور زندگیوں کو اہمیت دینے کو تیار نہین ہین۔

نیتن یاہو نے اپنی فوج کو رفح سے 14 لاکھ کے قریب بے گھر فلسطینیوں کو ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کرانے کے منصوبے کی تیاری کا کہہ رکھا ہے اور ہر قیمت پر رفح پر غیر معمولی جنگی یلغار کی حکم دینے والے ہیں نے پہلی بار کھل کر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی بھی پروا نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جس سے لگتا ہے وہ انتہائی بے رحمی کے ساتھ رفح میں جنگ مسلط کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں اور اپنے شہریونںکی بھی قید کے دوران ہی موت انہیں پریشان نہیں کر سکتی۔

ٹی وی پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں نیتن یاہو نے قاہرہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا انہوں نے 'ان مذاکرات میں اسرائیلی حکام کو امریکی صدر جوبائیڈن کی خواہش پر بھیجا تھا۔ لیکن حماس کے مطالبات محض ایک فریب تھے اس لیے وہ ان مذاکرات کے پیچھے نہیں گئے ہیں۔'ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'جب تک حماس اپنے مطالبات میں تبدیلی نہیں کرتی دوبارہ مزاکرات کے لیے نہیں جائیں گے۔'

یاہو نے رپورٹرز کے سوالات کے جواب میں کہا ' فلسطینیوں کے ساتھ وسیع تر سفارتی معاہدہ صرف پیشگی شرائط کے بگیر اور براہ راست مزاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں