"اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان محصولات کی تقسیم کا معاہدہ آسان بنانے کی کوشش"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اہم یورپی ملک ناروے کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقوم جنہیں اسرائیل نے اکتوبر سے ضبط کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ان کی بلا تعطل فراہمی آسان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے رو کہی ہے۔

واضح رہے محصولات کی یہ تقسیم 1990 کی دہائی میں ناروے کی مدد سے طے پانے والے اوسلو معاہدے کے تحت طے پائی تھی۔ ناروے تب سے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان معاملات کو رواں رکھنے کے لیے سہولتکار کا کردار ادا کرتا ہے۔ مگر اسرائیل نے ماہ اکتوبر سے جاری غزہ میں جنگ کے بعد سے فلسطینی اتھارتی کو ان محصولات سے حاصل ہونےوالی رقم کی ادائیگی بند کر رکھی ہے۔۔

ماہ جنوری کے اواخر میں اسرائیلی کابینہ نے فلسطینیوں کے حصے کے ان وسائل کو انہیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس رقم کو ناروے کے پاس رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

تاہم ناروے کے وزیر اعظم جوناس گاہر سٹوئیری نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ اس معاملے کو طے کرنے کے لیے بات چیت تقریباً مکمل ہو گئی یے اور ہم اس سلسلے میں معاہدے کے بہت قریب ہیں۔' خیال رہے یہ رقم فلسطینی اتھارٹی رقم مغربی کنارے اوتر غزہ کی بعض ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے۔

وزیر اعظم جوناس گاہر سٹوئیری نے کہا ' ہماری کوشش ہے کہ ایک اور اجلاس بلایا جائے اور اس کے لیے درست ترین وقت کا انتخاب کیا جائے۔ لیکن ہمارے لیے اہم ترین بات یہ ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد پہنچنے کو ترجیح بنایا جائے۔ کیونکہ فلسطینی ناتھارٹی کے کمزور ہونے یا ٹوٹنے کا کسی کو بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ یہ اسرائیلی سلامتی کے لیے بھی برا ہو گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں