فلسطین اسرائیل تنازع

’اونروا‘ اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے: اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (اونروا) اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے اور اب وہ امدادی تنظیم کے طور پر کام کرنے کی اہل نہیں رہی۔

گیلنٹ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ میں مزید کہا کہ "ہم اپنے شہریوں کے لیے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کریں گے اور ہم ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے"۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے ’اونروا‘ کے 12 ملازمین کی شناخت ظاہر کی جنہوں نے جنوبی اسرائیل میں 7 اکتوبر کو ہونے والے "قتل عام" میں حصہ لیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اونروا‘‘ کے درجنوں ملازمین نے شہریوں اور فوجیوں کو ہلاک اور اغوا کیا تنظیم اور اس کی سہولیات کو "دہشت گردی" کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے‘‘۔

فنڈنگ بند کرو

گذشتہ ماہ اسرائیل کی طرف سے’اونروا‘ کےکچھ ملازمین کی جانب سے سات اکتوبر کے حماس کے اسرائیل پرحملے میں معاونت کرنے کا الزام سامنے آنے کے بعد امریکہ، برطانیہ، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت ممالک نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ایجنسی کی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اونروا
اونروا

’اونروا‘ اردن، لبنان، شام، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں پھیلے لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد فراہم کرنے والی سب بڑی یو این ریلیف ایجنسی ہے جو تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، ریلیف، انفراسٹرکچر اور دوسرے شعبوں میں خدمات انجام دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں